← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sawal-o-jawab
Urdu · 9 min
سوال: آپ نے "کشمیر" کی نسبت سے کافی لکھا ہے۔ یہ کشمیریوں کے ساتھ آپ کی خیرخواہی کی دلیل ہے۔ آپ نے "کشمیر میں امن، Peace in Kashmir" اور "صبح کشمیر، نِد اَ ڈاؤن اوور کشمیر" نام کی کتابوں کو تحریر کر کے کشمیریوں کو صحیح رہنمائی دی ہے۔ ایک اگر ہسٹوریکل ڈاکیومنٹ ہے تو دوسری آئیڈیالوجیکل ڈاکیومنٹ ہے۔
دونوں تحریروں میں تاریخ اور مذہب کی حقیقی تصویر پیش کی گئی ہے۔ میں کشمیر کے گن کلچر میں جوان ہوا، لہٰذا میں کشمیر کے صوفی کلچر سے عملاً بے خبر ہوں۔ البتہ میرے والد بتاتے ہیں کہ میں جب اپنے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو کشمیر کی موجودہ صورتحال مجھے ایک خواب نظر آتی ہے۔ جب گاؤں میں ہمارا کوئی مہمان آتا تھا تو اس کی تواضع کے لیے ہم مرغ ذبح کرتے تھے، لیکن مرغ ذبح کرنے کے لیے ہمیں مشکل ہی سے کوئی آدمی ملتا تھا۔
اکثر لوگوں کے پاس چاقو تک نہ ہوتا تھا۔ لوگ جانور کو مارنے سے کتراتے تھے، کسی انسان کو تکلیف دینے کو تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی۔ ایک روز میں نے کیڑے مار دوا چھڑکی۔
صبح کو میرے والد نے مجھے بلایا۔ مرے ہوئے کیڑے مکوڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ قتل ہے"۔ میں اس رحم دلی کے مزاج کو یاد کر کے آج روتا ہوں۔ یہ ایک شخص کی کہانی نہیں، بلکہ یہی کشمیریوں کی فطرت تھی، جس کو عرف عام میں ہم "کشمیرِیت" سے یاد کرتے ہیں۔
جہاں تک میں نے آپ کے لٹریچر کا مطالعہ کیا ہے، کشمیر کی نسبت سے آپ کا مشن کشمیر کو دوبارہ اپنی فطری حالت پر لانا ہے، تاکہ ہم دنیا کو امن و سلامتی یعنی اسلام کا پیغام دے سکیں۔ برائے مہربانی مزید رہنمائی سے نوازیں۔ انجینئر سید عابد حسین، بڈ گام کشمیر۔ جواب: کشمیر کا مسئلہ ہو یا اس قسم کے دوسرے مسائل، ہر ایک کا سبب صرف ایک ہے: وہ یہ کہ لوگ محدود طور پر صرف اس مسئلے کو لے کر سوچتے ہیں جس سے وہ عملاً دوچار ہیں۔
وہ ان مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ یہ اوپر اٹھ کر سوچنا وہی چیز ہے جس کو قرآن میں "خُلُقِ عظیم" سورہ نمبر 68 آیت 4 کہا گیا ہے۔ خُلُقِ عظیم کا لفظی مطلب ہے برتر کردار۔ لیکن برتر کردار، برتر آئیڈیالوجی سے پیدا ہوتا ہے۔
برتر آئیڈیالوجی نہیں تو برتر کردار بھی نہیں۔ مومن کے لیے برتر آئیڈیالوجی صرف ایک ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی دوسری چیزوں کو لے کر سوچنے کے بجائے اللہ رب العالمین کو لے کر سوچے۔ اس کے اندر خدا رُخی سوچ یعنی God-oriented thinking آ جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے اندر خدا رُخی سوچ نہیں۔
وہ صرف اپنے معاشی اور سیاسی مسائل کو جانتے ہیں۔ ان کی موجودہ سوچ اسی بنیاد پر بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ کی نصرت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ان کے پاس صرف شکایت کی زبان ہے، ان کے پاس شکر کی زبان نہیں۔
موجودہ زمانے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو بڑے مسئلے ہیں: کشمیر کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ۔ غیر معمولی قربانیوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے عملاً "لا ینحل" مسئلے بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں مسائل کا حل اگر موجودہ قسم کی کوششوں سے ممکن ہوتا تو اب تک وہ ہو چکا ہوتا۔ لیکن 60 سال سے زیادہ مدت کی غیر معمولی کوششوں کے باوجود یہ دونوں مسئلے کسی بھی درجے میں حل نہیں ہوئے۔
ایسی حالت میں کشمیریوں اور عربوں دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں۔ اس کے سوا ہر دوسری تدبیر صرف نقصان میں اضافہ کرے گی، وہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی نہیں۔ کشمیر کے مسلمان اب تک دو چیزوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے تھے: آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر۔ مگر یہ دونوں نشانے قومی سوچ پر بنے ہیں، نہ کہ خدائی سوچ پر۔
صحیح یہ ہے کہ کشمیر کے مسلمان اپنی سوچ پر نظرِ ثانی کریں اور یہ کہیں کہ ہمارا نشانہ نہ آزاد کشمیر ہے اور نہ پاکستانی کشمیر۔ ہمارا نشانہ صرف خدائی کشمیر یعنی ڈیوائن کشمیر ہے۔ خدائی کشمیر کو اپنا نشانہ بنانے کا مطلب ہے خدا والی سوچ کے تحت اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مکے میں ہوئی تو آپ نے وہاں یہ ایشو نہیں کھڑا کیا کہ مکہ سیاسی طور پر کس کے قبضے میں ہو۔
اس کے برعکس آپ نے یہ کیا کہ صورتِ موجودہ یعنی اسٹیٹس کو تسلیم کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام شروع کر دیا۔ کشمیریوں کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو بن گیا ہے، یعنی پولیٹیکل اسٹیٹس کو بن گیا ہے، کشمیریوں کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہے۔ کشمیریوں کو یہ کرنا ہے کہ جموں و کشمیر میں جو سیاسی اسٹیٹس کو، یعنی پولیٹیکل اسٹیٹس کو بن گیا ہے، وہ اس سے ٹکراؤ نہ کریں۔
بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اپنی ساری کوشش پرامن دعوت الی اللہ کے کام میں لگا دیں۔ یہی وہ سنت ہے جو عربوں کو فلسطین میں اختیار کرنا ہے۔ فلسطین میں عربوں کے کرنے کا واحد کام یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی متشددانہ تحریک کو مکمل طور پر ختم کر دیں۔ وہ ایک طرفہ طور پر ٹکراؤ کی پالیسی کو چھوڑ دیں اور اپنی ساری طاقت پرامن دعوت میں لگا دیں۔
فلسطین میں دعوت الی اللہ کے عظیم مواقع اسرائیل کے درمیان بھی اور سیاحوں یعنی ٹورسٹس کے درمیان بھی، جو دنیا بھر سے بکثرت روزانہ فلسطین کے علاقے میں آتے ہیں، دعوت الی اللہ کا کام اہلِ ایمان کا اصل مشن ہے۔ اسی مشن کی ادائیگی پر ان کو اللہ کی نصرتیں حاصل ہوں گی۔ موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ بنا رہے ہیں، موجودہ زمانے کے مسلمان جن چیزوں کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں، اس مسئلے کا حل اللہ کی نصرت کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ محض ذاتی کوشش کے ذریعے۔ اور اللہ کی نصرت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو دعوت الی اللہ کا کام کریں۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے: "وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ" سورہ نمبر 22 آیت 40۔ یعنی: "اور اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اللہ کی مدد کرے"۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 484۔