Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-ojawab

Urdu · 4 min

سوال: کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کی جنگ میں امریکہ ناکام ہو گیا اور افغانستان جیت گیا۔ وہ اس طرح کہ اگر دو فریقوں کی جنگ میں ایک فریق کے لیے جنگ منفی نتائج کا سبب ہوتی ہے، تو اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دوسرے فریق کے لیے وہ جنگ یقینی طور پر مثبت نتائج کا سبب بن رہی ہے۔ یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر کے اس بیان کی روشنی میں کہی جاتی ہے کہ "امریکہ جو کچھ افغانستان میں کر رہا ہے، وہ سب اس کے لیے الٹے نتیجوں کا ہی سبب بن رہا ہے"۔ براہِ کرم اس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔

عبدالباسط عمری، قطر۔ جواب: افغان جنگ کے بارے میں امریکی افسر نے جو بات کہی، وہ صرف ایک جنگی تبصرہ ہے۔ اس سے وہ نتیجہ ہرگز نہیں نکلتا جو مذکورہ قسم کے لوگ اس سے نکال رہے ہیں۔ کوئی بھی منفی تبصرہ مثبت نتیجے کا سبب نہیں بن سکتا۔

امریکہ نے جب عراق اور افغانستان پر ہوائی حملے کیے، تو اس کا مقصد اصلًا القاعدہ کا زور توڑنا تھا، اور اسامہ بن لادن کی ہلاکت یعنی 2011 کے بعد یہ مقصد ایک مدت تک حاصل ہو چکا ہے۔ لیکن امریکی قائدین کو غالباً اس کا اندازہ نہ تھا کہ ان کے اقدام سے القاعدہ کی طاقت تو کمزور ہو سکتی ہے، لیکن اس اقدام کے ردعمل میں امریکہ کے خلاف مسلمانوں میں جو نفرت پیدا ہوگی، اس کا کوئی توڑ ممکن نہ ہوگا۔ امریکی افسر نے جو کچھ کہا، وہ صرف امریکی قائدین کے غلط اندازے کو بتاتا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس جنگ میں افغانستان کی جیت ہوئی ہے۔

واقعات بتاتے ہیں کہ افغانستان کی اقتصادی طاقت بالکل تباہ ہو گئی ہے۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کا کام بالکل رکا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ افغانی لوگوں میں آپس کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ یہ واقعات افغانستان کی تباہی کو بتاتے ہیں، نہ کہ اس کی جیت یا کامیابی کو۔

اس معاملے میں جہاں تک اسلامی نقطۂ نظر کا تعلق ہے، اسلام میں وہی اقدام مثبت اقدام ہے جو مثبت نتیجہ برآمد کرنے والا ہو۔ فریق ثانی کے نقصان پر خوش ہونا اسلام کا طریقہ نہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو کچھ نقصان پہنچا۔ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ افغانستان بدستور پچھڑا ہوا ایک ملک ہے۔

وہ تعمیر و ترقی کے راستے میں آگے نہ بڑھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب بھی بدستور اپنے بیٹوں کو امریکہ بھیج رہے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے بیٹوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے تیار نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 483۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.