سوال: مولانا صاحب، میں نے آپ کی آن لائن کافی تقریریں سنی ہیں، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ ہم اپنی اصلاح کا سفر کہاں سے شروع کریں؟ پاکستان کے حالات میں آپ ہماری اصلاح کے لیے کیا رہنمائی تجویز فرمائیں گے؟ بشریٰ عامر، پاکستان۔
جواب: سب سے پہلے آپ یہ کیجیے کہ اپنے اندر مکمل معنوں میں مثبت ذہن کی تعمیر کریں، ایک ایسا ذہن جو منفی سوچ سے پوری طرح خالی ہو۔ اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے کہ آپ افراد کی سطح پر دوسروں میں بھی مثبت سوچ والے انسان بنانے کی کوشش کریں۔ اور جب آپ کو ایسے کچھ ساتھی مل جائیں تو ہفتہ وار اجتماع کی شکل میں ان کو منظم کرنے کی کوشش کریں۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ حقیقت پسند، یعنی رئیلسٹ بنیں۔
رومانی تصورات میں جینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آپ امت کے ماضی کی عظمت کے خول سے مکمل طور پر باہر آ جائیں، ورنہ آپ کے لیے کبھی بھی اپنی اصلاح ممکن نہ ہوگی۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 482۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.