Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 9 min

سوال: میں آپ کے قولِ فکر سے بہت متاثر رہا ہوں۔ یہ اس بنا پر کہ میں نے آپ کی تحریر کی ہوئی باتیں آپ کے ماہنامہ الرسالے میں پڑھی ہیں۔ میں نے آپ کی بتائی ہوئی اچھی باتیں دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی ہے، لیکن میں نے پایا کہ میرے اطراف کے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے۔ جب میں نے ان سے وجہ دریافت کی تو وہ مجھے کوئی قابلِ قبول وجہ نہیں بتا سکے۔

یہ لوگ صرف سنی سنائی باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ وہ خود اپنا کوئی ذاتی تجربہ یا مشاہدہ بتائیں، تو وہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس طرح میں ان کو نظرانداز کر کے خاموشی سے تعمیری سوچ اور کام میں لگا ہوا ہوں۔ میرا ایک مشاہدہ آپ کے بارے میں ایسا ہوا ہے جو میری سمجھ سے غیر مناسب ہے، اور آپ جیسی شخصیت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا۔

کل کے اخبار "دہندو" (Agust 7, 2009) سے معلوم ہوا کہ آپ نے اڈوانی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب "میرا وطن میری زندگی" کے ریلیز فنکشن میں شامل ہیں۔ ایک طرح سے یہ اس شخصیت کا endorsement ہے جس کی لکھی ہوئی یہ کتاب ہے۔ اس مصنف کی جو قدریں، یعنی values ہیں، وہ اس کے قول اور اس سے زیادہ اس کے عمل اور کردار سے ظاہر ہوتی ہیں۔ اس بارے میں زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔

میرا تجربہ ہے، اور دانشمندوں کی کہاوت ہے کہ خودغرض اور ظالم کی دوستی فائدہ مند نہیں ہوتی، خواہ وہ ظالم آپ پر مہربان ہو۔ ایسے لوگوں کی دعوت، ایسے لوگوں کے دعوت نامے کو قبول کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔ اگر کسی وجہ سے ایسی دعوت قبول کرنا بھی پڑے تو ایسے موقع پر اپنی بات پوری وضاحت اور مضبوطی سے کہنا چاہیے، تاکہ negative values کا endorsement نہ ہونے پائے۔ آپ سے درخواست ہے کہ اس معاملے میں آپ وضاحت کریں اور میری غلط فہمی دور کریں۔

ایم اے صدیقی، کانپور۔ جواب: اصل یہ ہے کہ کسی واقعے کو دیکھنے کے دو زاویے، یعنی angles، ہوتے ہیں: ایک مثبت زاویہ اور دوسرا منفی زاویہ۔ ایک واقعہ مثبت زاویے سے دیکھنے میں صحیح واقعہ نظر آئے گا۔ اسی واقعے کو دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو وہ منفی واقعہ بن جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صلح حدیبیہ پیش آیا۔ اس وقت ایک صحابی، حضرت عمر فاروق نے منفی زاویے سے دیکھا تو ان کو وہ پسپائی کا ایک واقعہ نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ "لما نُعطِ الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنا" مسند احمد، حدیث نمبر 18928۔ اس کے برعکس، اللہ نے اس کو مثبت زاویے سے دیکھا اور قرآن میں اعلان کیا کہ یہ فتح مبین ہے۔

سورہ نمبر 48، آیت 1۔ آپ کی غلط فہمی یہ ہے کہ آپ نے مذکورہ اجتماع میں میری شرکت کو دوستی کے زاویے سے دیکھا اور اس کو صاحبِ کتاب کا endorsement سمجھ لیا۔ آپ کے لیے صحیح یہ تھا کہ آپ اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھتے، تو آپ کو معلوم ہوتا کہ مذکورہ اجتماع میں میری شرکت ایک صحیح اور باعثِ ثواب معاملہ تھا۔ جو شخص بھی ماہنامہ الرسالہ اور اس کا خبرنامہ باقاعدگی کے ساتھ پڑھے، تو اس کو معلوم ہوگا کہ مذکورہ واقعہ کوئی استثنائی واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بہت سے واقعات میں سے صرف ایک واقعہ تھا۔

میں اور میرے ساتھی "دعوت الی اللہ" کا مشن چلا رہے ہیں۔ یہ مشن ایک مبنی بر لٹریچر مشن ہے۔ ہم مسلسل یہ کر رہے ہیں کہ انڈیا کے اندر اور انڈیا کے باہر ہونے والے اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔ وہاں ہم لوگوں کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کرتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے ہم ہر مذہب اور ہر گروہ اور ہر پارٹی کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ اگر ہم آپ کے بیان کردہ زاویے سے چیزوں کو دیکھیں تو ہم دعوت کے مواقع، یعنی opportunities، کو استعمال نہ کر سکیں، استعمال نہ کر سکیں گے، اور اللہ تعالیٰ کے یہاں گنہگار ثابت ہوں گے۔ ہمارا یہ طریقہ پیغمبر کی سنت کے عین مطابق ہے۔ حضرت یوسف نے قدیم مصر میں وہاں کے بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں ایک ذمہ دارانہ عہدہ قبول کیا، حالانکہ یہ بادشاہ ایک مشرک بادشاہ تھا۔

حضرت یوسف اگر اس معاملے کو شرک کے زاویے سے دیکھتے تو بادشاہ کے ایڈمنسٹریشن میں شرکت نہ کرتے، مگر آپ نے اس کو اپنے دعوتی مشن کی حیثیت سے دیکھا اور قبول کر لیا۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کے ابتدائی زمانے میں 13 سال تک مکے میں تھے۔ وہاں آپ کعبے میں جاتے اور نماز ادا فرماتے، اور لوگوں کو دعوت پہنچاتے، حالانکہ اس زمانے میں کعبے کی عمارت میں کھلے طور پر 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اگر اس واقعے کو منفی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ شرک کا endorsement نظر آئے گا، لیکن رسول اللہ نے اس کو دعوت کے زاویے سے دیکھا۔

آپ نے یہ فارمولا اختیار کیا کہ بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کرو اور وہاں موجود لوگوں میں اپنا پیغام پہنچاؤ۔ ہم نے اپنے دعوتی مشن میں اسی پیغمبرانہ طریقے کو اختیار کیا ہے۔ ہم لوگوں کو دشمن اور دوست کے اعتبار سے نہیں دیکھتے۔ ہم ہر انسان کو صرف انسان کے روپ میں دیکھتے ہیں۔

ہر عورت اور ہر مرد کو ہم حق کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہم ہر اجتماعی موقع پر جاتے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن کا ترجمہ اور دوسری اسلامی کتابیں ہوتی ہیں۔ ان کو ہم ایک ایک شخص تک پہنچاتے ہیں۔

مذکورہ اجتماع میں پورے انڈیا کے تقریباً تمام ٹاپ کے کٹر ہندو لیڈر موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر ان لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ "الناسُ أعداءُ ما جهلو" یعنی لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے کی مثال ہے۔ جو لوگ دعوت کے فرض سے غافل ہیں، جو یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمان کا دوسرے انسانوں سے تعلق داعی اور مدعو کا تعلق ہے، وہ اس معاملے میں غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں۔

وہ انسانوں کو دوست اور دشمن کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ کسی کو اپنا اور کسی کو غیر سمجھتے ہیں۔ وہ کسی سے محبت کرتے ہیں اور کسی سے نفرت۔ ایسے لوگ ایک داعی کی پوزیشن کو سمجھ نہیں پاتے۔

آپ کو چاہیے کہ آپ ہمارے بارے میں کسی انگریزی یا ہندی اخبار میں ایک خبر پڑھ کر رائے نہ بنائیں، بلکہ خود ہماری تحریروں کو پڑھ کر ہمارے بارے میں رائے بنائیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کو کبھی مذکورہ قسم کی غلط فہمی نہیں ہوگی۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 479۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.