سوال: میں دعوتی کام کرتا ہوں، مگر دعوتی کام کے دوران میں نے پایا ہے کہ کچھ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ میں ان کو بہت زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے؟ اقفاری الرسالہ، حیدرآباد۔
جواب: اصل یہ ہے کہ جب آپ ایک شخص سے براہِ راست گفتگو کریں تو اس میں آپ اور دوسرا شخص دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ایگو پرابلم پیدا ہو جاتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں؟ اگر میں نے دوسرے کی بات مانی تو میں اس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔
اس لیے دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب تک آپ دیکھیں کہ گفتگو سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے، تو آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، ورنہ آپ اس کو مطالعے کے لیے کوئی کتاب پیش کر دیں۔ آدمی جب کتاب پڑھتا ہے تو ایک طرف وہ خود ہوتا ہے اور دوسری طرف صرف ایک کتاب، نہ کہ اس کے جیسا کوئی انسان۔ اس لیے کتاب کے مطالعے میں ایگو پرابلم نہیں ہوتا۔ آدمی کھلے ذہن کے تحت پڑھتا ہے، اور کھلے ذہن کے تحت اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس طریقے کا نام حکمتِ دعوت ہے، اور حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر نہیں ہو سکتا۔ تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 478۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.