Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 6 min

سوال: ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ "میں الرسالہ سے پورا اتفاق رکھتا ہوں"، مگر ایک چیز سے میں ابھی تک پورا اتفاق نہ کر سکا۔ وہ یہ کہ الرسالہ میں مثبت انداز میں کام کرنے کو کہا جاتا ہے، مگر خود الرسالہ میں تنقیدی اسلوب پایا جاتا ہے، حالانکہ تنقید کا اسلوب منفی اسلوب ہے۔ مزید یہ کہ الرسالہ کی تنقید ایک طرفہ تنقید ہوتی ہے؛ اس میں زیرِ تنقید شخص کے مثبت پہلو کو عام طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔ ایک قاری: الرسالہ، نئی دہلی۔

جواب: ماہنامہ الرسالہ میں کبھی یہ نہیں لکھا گیا کہ تنقیدی اسلوب درست نہیں۔ الرسالہ میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ صرف منفی اسلوب کے بارے میں ہے، نہ کہ تنقیدی اسلوب کے بارے میں۔ منفی اسلوب میں دو قسم کی چیزیں شامل ہیں: شکایتی اسلوب اور عیب زنی کا اسلوب۔ یہ دونوں چیزیں بلاشبہ حرام کے درجے میں قابلِ ترک ہیں۔

جہاں تک تنقیدی اسلوب کی بات ہے، وہ سرے سے قابلِ اعتراض ہی نہیں۔ تنقید کے بغیر کبھی ذہنی ترقی نہیں ہو سکتی۔ تاہم، تنقید سے مراد تنقیص نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد علمی تجزیہ ہے، اور علمی تجزیہ ہمیشہ نہایت مفید ہوتا ہے۔ الرسالہ میں جو تنقید ہوتی ہے، وہ ہمیشہ علمی تجزیے کے معنی میں ہوتی ہے، نہ کہ شکایتی اسلوب اور عیب زنی کے اسلوب کے معنی میں۔

اصل یہ ہے کہ لوگوں نے خود ساختہ طور پر بعض شخصیتوں کو اکابر کا درجہ دے رکھا ہے۔ اس لیے جب ان کے مفروضہ اکابر پر تنقید کی جائے تو اس سے انہیں تکلیف پہنچتی ہے، مگر ملت کے افراد کو اساغر اور اکابر میں تقسیم کرنا بجائے خود ایک بدعت ہے۔ اور بدعت کو حدیث میں "ذلالت" کہا گیا ہے (مسند احمد، حدیث نمبر 17144)۔ اسلوبِ کلام کے دو طریقے ہیں: ایک اصلاحی اسلوب اور دوسرا قانونی اسلوب۔

دونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں، اس لیے دونوں کا انداز یکساں نہیں ہو سکتا۔ اصلاحی اسلوب کا مقصد کسی شخص یا اشخاص کی اصلاح ہوتا ہے، اس لیے حکمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ سارا زور کمی والے پہلو پر دیا جائے تاکہ آدمی کا ذہن اس کو پکڑ سکے۔ اصلاحی اسلوب میں اگر عیب میں جملہ بگفتی "ہنرش نیز بیگو" یعنی تم نے تمام عیب بیان کر دیے، اب اس کی خوبی بھی بیان کر دو کا طریقہ اختیار کیا جائے تو کلام بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔ مثلاً حضرت عائشہ سے ایک بار بتایا گیا کہ ابوہریرہ فلاں حدیث بیان کرتے ہیں۔

حضرت عائشہ نے کہا: "کذب ابوہریرہ" یعنی ابوہریرہ نے جھوٹ کہا۔ حضرت عائشہ نے یہ انداز اختیار نہیں کیا کہ پہلے وہ حضرت ابوہریرہ کے تمام کارنامے بیان کریں، اور اس کے بعد یہ کہیں کہ صرف ایک حدیث کے بیان میں ابوہریرہ سے غلطی ہو گئی ہے۔ اس قسم کا متوازن طریقہ رسول نے یا اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا طریقہ متوازن طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ غیر مفید طریقہ ہے۔

واضح رہے کہ قانونی اسلوب میں مختلف پہلوؤں کا احاطہ مقصود ہوتا ہے، لیکن اصلاحی اسلوب یہ ہے کہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف اس پہلو کو بیان کیا جائے جو موقع کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کی صحیح اسلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کا صحیح اسلوب ہے، اور یہی وہ اسلوب ہے جس سے حقیقی نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 476۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.