← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sawal-o-jawab
Urdu · 7 min
سوال: میں ایک طالب علم ہوں اور جدید تعلیم حاصل کر رہا ہوں، لیکن اسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال پہلے میں نے آپ کا نام سنا تھا، لیکن جن کے ذریعے آپ کا تعارف ہوا انہوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیں کیا، بلکہ دل خراش واقعات سنائے، جو کہ میرے لیے باعثِ تشویش رہے کہ کیا دینِ اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش و پنج میں رہتا تھا، پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان باتوں کی حقیقت کو جاننے کے لیے ازخود آپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔
آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب "کاروانِ ملت" خریدی۔ کتابِ مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہو چکا تھا: وہ منفی تاثرات جو آپ کے متعلق مجھے بتائے گئے تھے، وہ سب گمراہ کن لگے۔ بعد میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روزمرہ کے شیڈول کا ایک جز بن گیا۔ میں نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا، ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں: "کتابِ معرفت"، "عظمتِ اسلام"، "تعمیرِ انسانیت"، "دعوتِ اسلام"، "کرییشن پلان آف گاڈ"، "دا قرآن فار آل ہیومینٹی" وغیرہ۔
اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہوا کہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ اس عُسر کے دور میں یُسر کا ایک موقع مجھے ضرور ملا، جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں: غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں، بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں، لہٰذا ہمیں ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔ ایک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغامِ امن ان تک پہنچا سکتے ہیں۔
دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں، دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔ گمراہ کن نعروں سے مسلمانانِ دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔ دعوت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا وغیرہ وغیرہ۔ ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
اس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے، جن کے جوابات جاننا میرے لیے ضروری ہو گیا۔ امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے: 1) اسلامی حکومت کے قیام کے لیے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا؟ 2) قرونِ اول میں جو فتوحات ہوئیں، مثلاً مصر، روم، ایران وغیرہ، ان کو دفاعی جنگ یعنی ڈیفنسو وار کہنا کیسے ممکن ہے؟ 3) نہی عن المنکر غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے؟
4) دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں؟ جواب: کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا ایک بے حد سنگین بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہِ راست معلومات حاصل کرے، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائے بنائے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں، تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔
آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے، لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ پہلے وہ براہِ راست طور پر پوری معلومات حاصل کرے، اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔ جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے، یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ آپ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہو جائے گی۔ تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 487۔