منفی سوچ نہیں۔ اگر کسی بات پر آپ کے اندر منفی سوچ پیدا ہو جائے تو فوراً اس کو اپنے اندر سے ختم کر دیجیے۔ منفی سوچ کی نفسیات یہ ہے کہ اگر ایک بار آپ کے اندر کسی بات پر منفی سوچ پیدا ہو جائے تو وہ برابر جاری رہے گی، یہاں تک کہ وہ آپ کی کنڈیشننگ کا حصہ بن جائے گی۔ اس لیے منفی سوچ کو فوراً ختم کر دیجیے۔
اگر فوراً نہیں کیا تو پھر وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ انسان کے ذہن میں ہر وقت ٹرین آف تھاٹ چلتا رہتا ہے، وہ نان اسٹاپ طور پر خود بخود چلتا ہے۔ ٹرین آف تھاٹ کو روکنا ممکن نہیں۔ آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ آپ اپنے ذہن میں منفی آئٹم نہ ڈالیں، یا اگر کوئی منفی آئٹم پڑ گیا ہے تو فوراً اس کو نکال دیں۔
اگر آپ نے فوراً اس کو نہیں نکالا تو وہ مزید پختہ ہوتا چلا جائے گا، وہ آپ کی طبیعتِ ثانیہ، یعنی سیکنڈ نیچر بن جائے گا۔ منفی سوچ کوئی سادہ بات نہیں۔ منفی سوچ آپ کے اندر تمام اچھی باتوں کے ڈیولپمنٹ کو روک دیتی ہے۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ چیزوں کو منفی زاویے سے سوچنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
آپ کے اندر مثبت سوچ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ آپ تخلیقی سوچ، یعنی کریئیٹو تھنکنگ کے قابل نہیں رہتے۔ اور سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ منفی سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا میں بار بار ایسے اسباب پیش آتے ہیں جو آدمی کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیں۔
ایسا ہونا بالکل فطری بات ہے۔ آپ ایسا ہونے کو روک نہیں سکتے۔ البتہ آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ منفی سوچ کو یاد کے خانے سے نکال کر فراموشی کے خانے میں ڈال دیں۔ آپ منفی بات کو اپنی کنڈیشننگ کے پراسیس میں شامل ہونے سے دور رکھیں۔
آپ منفی سوچ کو اپنی شخصیت، یعنی پرسنالٹی، کا مستقل حصہ نہ بننے دیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 440۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.