Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Manfi tajriba

Urdu · 3 min

منفی تجربہ۔ منفی تجربہ، یعنی نیگیٹو ایکسپیرینس، صرف منفی تجربہ نہیں ہے؛ بلکہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک صدمہ، یعنی شاک ہے۔ صدمے کا تجربہ انسانی ذہن کے لیے ایک فکری طوفان، یعنی اسٹام، کے ہم معنی ہوتا ہے۔ کبھی چھوٹا اسٹام اور کبھی بڑا اسٹام۔

منفی تجربے کے وقت انسان کے ذہن میں طوفان پیدا ہوتا ہے؛ وہ درحقیقت ایک توانائی، یعنی انرجی، کے اخراج، یعنی ریلیز کا واقعہ ہے۔ یہ صدمہ انسان کے لیے مطلق معنوں میں کوئی برائی نہیں ہے؛ اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بناتا ہے۔ اگر آپ اس صدماتی انرجی، یعنی شاک انرجی، کو مثبت رخ پر موڑ سکیں تو ہر صدمہ آپ کے لیے انٹلیکچول ڈیولپمنٹ کا ذریعہ بن جائے گا۔ آپ کے سوچنے کی طاقت، آپ کے تجزیہ، یعنی انالیسس، کی طاقت کچھ بڑھ جائے گی۔

آپ کا ذہن غیر تخلیقی ذہن سے بڑھ کر تخلیقی ذہن، یعنی کریئیٹو مائنڈ، ہو جائے گا۔ آپ کے ذہن کی ایسی کھڑکیاں کھل جائیں گی جو اس سے پہلے بند پڑی تھیں۔ آپ کسی بھی وقت اس حقیقت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ مثلاً آپ نے کسی سے ایک بات کہی، وہ آدمی آپ کی بات کو سن کر غصہ ہو گیا، اس نے آپ کو اس کا سخت جواب دیا۔

اس وقت آپ جوابی غصہ نہ کریں، اور ٹھنڈے طریقے سے مثبت انداز میں غور کریں۔ آپ بہت جلد محسوس کریں گے کہ آپ کی قوتِ تفکیر بڑھ گئی ہے۔ آپ کے ذہن میں نئے نئے پوائنٹس آ رہے ہیں۔ آپ کی بات خود آپ کے لیے زیادہ قابلِ فہم بن رہی ہے۔

آپ کے ذہن کی تخلیقیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب بھی آپ کو کسی بات سے صدمہ پہنچے، تو آپ صرف یہ کیجیے کہ آپ چپ ہو جائیے۔ آپ ری ایکشن کے بجائے خاموشی کا طریقہ اختیار کیجیے۔ آپ ایک شخص پر سوچنے کے بجائے اصل ایشو پر سوچنا شروع کر دیجیے، اور پھر جلد آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ کی سوچ کے بند دروازے اچانک کھل گئے ہیں۔

تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 441۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.