Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Halakat kya hai

Urdu · 3 min

ہلاکت کیا ہے؟ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا سمعت الرجل يقول هلك الناس فهو أهلكهم. موطا امام مالک، حدیث نمبر 2070۔ یعنی: جب تم کسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے، تو سب سے زیادہ ہلاکت میں وہی شخص ہے۔

اس حدیثِ رسول میں "ہلک الناس" اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے، اس لیے کہ یہ ثابت ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے خود بھی یہ زبان استعمال کی۔ مثلاً حضرت علی ابن ابی طالب نے ایک قاضی سے کہا: هلقت وأهلكت. السنن الکبری للبیہقی، اثر نمبر 20857۔ یعنی: تم خود بھی ہلاک ہوئے، اور تم نے دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔

اس حدیثِ رسول میں جس روش کی مذمت کی گئی ہے، وہ دراصل تنقید برائے تنقید، یعنی criticism for the sake of criticism ہے۔ یعنی لوگوں کو برا بتانا، لیکن یہ نہ بتانا کہ ان کے لیے صحیح بات کیا ہے۔ دوسروں کے خلاف منفی remark دینا، لیکن مثبت نصیحت کا طریقہ اختیار نہ کرنا۔ بے دلیل تنقید کرنا، لیکن مدلل تجزیہ۔

بے دلیل تنقید کرنا، لیکن مدلل تجزیہ کے ذریعے یہ نہ بتانا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ نفرت کی زبان میں لوگوں کی مذمت کرنا، لیکن خیرخواہی کے انداز میں ان کو نصیحت نہ کرنا۔ بلا دلیل تنقید کا فائدہ تو کچھ نہیں، مگر اس کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ با دلیل تنقید سے لوگوں کے اندر محاسبہ، یعنی introspection کا مزاج بنتا ہے۔

اس کے برعکس، بے دلیل تنقید سے لوگوں کے اندر نفرت اور بے اعترافی کا مزاج بنتا ہے۔ با دلیل تنقید اصلاح کا ذریعہ ہے، اور بے دلیل تنقید صرف فساد کا ذریعہ۔ صالح تنقید وہ ہے جس میں خیرخواہی کا جذبہ پایا جائے، جس کا مقصد فریقِ ثانی کی اصلاح ہو۔ اس کے برعکس، غیر صالح تنقید کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کو بے عزت کرنا اور اس کی برائی بیان کرنا۔

صالح تنقید اسلام میں عین مطلوب ہے۔ اس کے برعکس، غیر صالح تنقید کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 427۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.