Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Tameer-e-shakhsiyat

Urdu · 10 min

تعمیرِ شخصیت: قرآن کی سورہ نمبر 83 میں اہلِ تکذیب کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: «كَلَّا بَلْغَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ». سورہ نمبر 83، آیت 14۔ یعنی: ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ اس آیت میں ایک نفسیاتی معاملے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جو ضد اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

اس معاملے کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ كَانَتْ نُقْطَةٌ سَوْدَاءٌ فِي قَلْبِهِ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ سُخِلَ قَلْبُهُ وَإِنْ زَادَ زَادَتْ حَتَّى يَعْلُوَ قَلْبَهُ». ابن ماجہ، حدیث نمبر 4245۔ مسند احمد، حدیث نمبر 4245۔ یعنی مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک کالا دھبہ پڑ جاتا ہے۔

اگر وہ توبہ کرے اور اس سے باز آ جائے، اور استغفار کرے، تو اس کا دل دھبے سے پاک ہو جاتا ہے۔ اور اگر گناہ میں مزید اضافہ ہو تو دھبہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ یہ تمثیل کی زبان میں ایک نفسیاتی معاملے کو بتایا گیا ہے: جب کوئی انسان برائی کرے اور پھر وہ جلد ہی متنبہ ہو جائے، وہ برائی کرنے کی خواہش کو اپنے دل سے نکال دے، تو اس کا دل پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ آدمی ایک کے بعد ایک برائی کرتا رہے، وہ اپنا محاسبہ کر کے اپنے دل سے اس کے اثر کو زائل نہ کرے، تو دھیرے دھیرے اس کا پورا دل بے حسی کا شکار ہو جاتا ہے۔

اب وہ برائیوں ہی میں جینے لگتا ہے، اور سچائی کی بات اس کو متاثر نہیں کرتی۔ جدید نفسیاتی مطالعے نے اس معاملے کو مزید واضح کیا ہے: اب یہ بات ایک پراسرار عقیدہ نہیں رہی، بلکہ وہ ایک معلوم حقیقت بن گئی ہے۔ اب وہ خالص علمی اعتبار سے انسان کے لیے قابلِ فہم ہے۔ جدید نفسیاتی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انسان کے دماغ کے تین بڑے حصے ہیں۔

یہ تینوں حصے ہر عورت اور ہر مرد کے دماغ میں پائے جاتے ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر ہر انسانی دماغ کا حصہ ہیں۔ وہ تین حصے یہ ہیں: نمبر 1، شعوری ذہن یعنی کانشس مائنڈ۔ نمبر 2، تحت شعور یعنی سب کانشس مائنڈ۔

نمبر 3، لاشعور یعنی انکونشس مائنڈ۔ تجربہ و تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کوئی بھی خیال جب وہ ایک بار دماغ میں آ جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسانی دماغ کا حصہ بن جاتا ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، انسانی دماغ ہی دراصل انسانی شخصیت کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی خیال انسان کے دماغ میں آ جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

حتیٰ کہ اگر وہ اس کو اپنی شخصیت سے الگ کرنا چاہے تو وہ اس کو الگ کرنے پر قادر نہیں ہوتا۔ جب کوئی بات انسان کے دماغ میں آتی ہے، خواہ وہ منفی ہو یا مثبت، تو وہ سب سے پہلے دماغ کے شعوری حصے میں آتی ہے۔ اس کو زندہ حافظہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آدمی جب رات کو سوتا ہے تو فطری عمل کے تحت اپنے آپ ایسا ہوتا ہے کہ وہ بات شعوری ذہن سے چل کر ذہن کے تحت شعور حصے میں پہنچ جاتی ہے۔

جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے خیال کے اوپر آدمی کا شعوری کنٹرول صرف 50 فیصد رہ جاتا ہے۔ 50 فیصد وہ اس کے شعوری کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد جب وہ اگلی رات کو سوتا ہے تو یہ خیال مزید سفر کر کے ذہن کے لاشعور حصے میں پہنچ جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد یہ خیال اس کے شعوری کنٹرول سے پوری طرح باہر ہو جاتا ہے۔

انسانی ذہن کے یہ تینوں حصے، شعور کے اعتبار سے، ذہن کی تین حالتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر جہاں تک انسانی شخصیت کا تعلق ہے، وہ ہر حال میں یکساں طور پر اس کا معمول بنی رہتی ہے۔ کوئی خیال جب تک زندہ حافظے میں ہو تو وہ انسانی شخصیت کا معلوم حصہ ہوتا ہے۔ مگر جب وہ تحت شعور میں پہنچ جائے تو اگرچہ اب بھی وہ مکمل طور پر انسانی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے، مگر عام حالات میں وہ انسان کے علم میں تازہ نہیں ہوتا۔

یہی روزمرہ کے افکار جو انسان کے ذہن میں آتے ہیں، وہی اس کی شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔ جیسے افکار، ویسی شخصیت۔ مثبت افکار سے مثبت شخصیت بنے گی۔ لیکن اگر یہ افکار منفی افکار ہوں تو انسان کی شخصیت بھی منفی بنتی چلی جائے گی۔

آج کل یہ حال ہے کہ آپ جس عورت یا مرد سے ملیے، ہر ایک کو آپ منفی سوچ میں مبتلا پائیں گے۔ اگر کوئی شخص بظاہر مثبت باتیں کرتا ہوا نظر آئے، تب بھی اس کی یہ بات صرف اوپری طور پر ہوگی۔ اگر آپ مزید گفتگو کر کے اس کی اندرونی شخصیت کو جاننے کی کوشش کریں تو آپ پائیں گے کہ اس کی اندرونی شخصیت بھی اتنی ہی منفی تھی جتنی کہ دوسروں کی شخصیت۔ اس طرح موجودہ زمانے کا ہر آدمی اپنے آپ کو منفی قبرستان میں دفن کیے ہوئے ہے، اگرچہ اس کو خود بھی اس ہلاکت خیز واقعے کی خبر نہیں۔

اس میں غالباً مذہبی انسان اور سیکولر انسان میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سب سے بری شخصیت منفی شخصیت ہے، اور سب سے زیادہ اچھی شخصیت وہ ہے جو مثبت شخصیت ہو۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ مثبت شخصیت کی تعمیر کس طرح کی جائے؟ مذکورہ اسلامی تعلیم اور مذکورہ نفسیاتی تحقیق دونوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو اس کی ایک واضح عملی صورت بنتی ہے۔

اس کو یہاں درج کیا جاتا ہے۔ اس عمل کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی منفی خیال آدمی کے ذہن میں آ جائے تو وہ اس کو پہلے ہی مرحلے میں ختم کر دے۔ خصوصی تدبیر کے ذریعے اس کے منفی پہلو کو مثبت پہلو میں تبدیل کر لے۔ مثلاً وہ غصے کو فوراً معاف کر دے تاکہ اس کا غصہ انتقام کی صورت اختیار نہ کرنے پائے۔

کسی کی ترقی اس کو پسند نہ آئے تو اسی وقت وہ اس کو نظر انداز کر دے تاکہ وہ اس کی شخصیت میں حسد بن کر شامل نہ ہو سکے وغیرہ۔ ہر برے خیال کے ساتھ فوراً ہی تبدیلی کا یہ عمل کرنا چاہیے۔ اگر اس میں دیر ہوئی تو جلد ہی ایسا ہوگا کہ وہ آدمی کے تحت شعور میں چلا جائے گا، اور پھر کچھ عرصہ بعد وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو جائے گا۔ اور جب ایسا ہوگا تو وہ آدمی کی شخصیت کا اس طرح لازمی حصہ بن جائے گا کہ آدمی چاہے بھی تو وہ اس کو اپنے سے جدا نہ کر سکے۔

لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے، اور اس کی یہ بھیانک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت ہے۔ جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں، ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عمل کی تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کر لیں۔ اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی اور حل موجود نہیں۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 423۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.