Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Chup ki taaqat

Urdu · 4 min

چپ کی طاقت ایک پرانا مثل ہے: "ایک چپ ہزار بلا ٹالتی ہے"۔ یہ مثل تقریباً ہر زبان میں مختلف الفاظ میں موجود ہے، اس لحاظ سے تمام لوگ اس مثل کو جانتے ہیں، مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو اس مثل کو عملاً اپنی زندگی میں استعمال کریں۔ جاننے میں اور عمل میں اس فرق کا سبب کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ جب کوئی عورت یا مرد اس مثل کو سنتا ہے یا پڑھتا ہے، اس وقت وہ معتدل ذہن، یعنی نارمل مینڈ کے ساتھ ہوتا ہے۔

لیکن جب اس کے استعمال کا وقت آتا ہے تو اس وقت وہ غیر معتدل ذہن، یعنی اب نارمل مینڈ کی حالت میں ہو جاتا ہے۔ اس کے عملی استعمال کا وقت وہ ہوتا ہے جبکہ کوئی آدمی بھڑکا کر اس کو غصہ دلا دے، وہ اس کے خلاف نازیبا کلمات بول دے۔ اس وقت یہ ہوتا ہے کہ سننے والا بھی بھڑک اٹھتا ہے۔ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہتا ہے۔

یہی سبب ہے جس کی بنا پر لوگ جانتے ہوئے بھی چپ کی پالیسی کو اختیار نہیں کر پاتے۔ چپ رہنے سے بات وہیں کی وہیں ختم ہو سکتی تھی، لیکن بولنے کا طریقہ اختیار کرنے کی وجہ سے بات بڑھتی ہے اور بریک ڈاؤن کی نوبت آ جاتی ہے۔ ایک وقتی چیز مستقل خرابی کا سبب بن جاتی ہے۔ اشتعال کے موقع پر چپ رہنا سب سے زیادہ کامیاب پالیسی ہے۔

اشتعال کے موقع پر نہ بولنا فتنے کے دروازے کو بند کر دیتا ہے، اور اشتعال کے موقع پر بولنا فتنے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ ایسا دروازہ جو پھر کبھی بند نہیں ہوتا۔ اشتعال کے موقع پر بولنے سے بات بڑھتی ہے، اور اشتعال کے موقع پر نہ بولنے سے بات وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہے۔ اسی حقیقت کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "الفتنۃ نائمة لعن الله من أيقظها." کنز العمال، حدیث نمبر 30891۔

یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس شخص پر لعنت ہے جو اس سوئے ہوئے فتنے کو جگائے۔ ہر آدمی اپنے اندر منفی نفسیات لیے ہوئے ہے۔ اگر آپ چپ رہیں تو یہ منفی نفسیات دبی رہے گی، لیکن اگر آپ بول دیں تو یہ منفی نفسیات جاگ اٹھے گی، اور پھر اس کے وہ برے نتائج نکلیں گے جس کا پیشگی اندازہ بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 418۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.