Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Rujz ko chodo

Urdu · 4 min

رجس کو چھوڑو۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکے میں اپنا مشن شروع کیا۔ اس وقت آپ کو ایک بنیادی ہدایت یہ دی گئی کہ "والرجز فاهجر" سورہ نمبر 74 آیت 5، یعنی "رجز کو چھوڑ دے"۔ رجز کا مطلب گندگی ہے۔

وہ رجز کیا تھا جس کو آپ نے چھوڑ کر اپنا مشن چلایا؟ اس کی تفصیل آپ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ اس کا تعلق آپ کے مشن کے طریقہ کار، یعنی method سے تھا۔ اگر رسول اللہ کی عملی روش کو لے کر اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ نزاعی طریقہ کار، یعنی confrontational method کو چھوڑو اور غیر نزاعی طریقہ کار، یعنی non-confrontational method کو اختیار کرو۔

رسول اللہ کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنا مشن پوری طرح غیر نزاعی اصول پر چلایا۔ کعبے میں اس وقت کے لوگوں نے 360 بت رکھ دیے تھے، مگر آپ نے اس سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ اس سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مکے میں دارالندوہ، یعنی tribal parliament تھا، مگر آپ نے اس میں قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس سے مکمل طور پر اعراض کرتے ہوئے اپنا مشن غیر سیاسی انداز میں چلایا۔ مکے کے سرداروں نے کہا کہ آپ مکہ چھوڑ دیجیے، تو آپ نے ان کے اس فیصلے پر کوئی ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ خاموشی کے ساتھ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔

اس واقعے کی روشنی میں رجز کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر قسم کے ٹکراؤ کو چھوڑتے ہوئے اپنا مشن جاری رکھا جائے، یعنی مذہبی ٹکراؤ، سیاسی ٹکراؤ، قومی ٹکراؤ، حقوق کا ٹکراؤ وغیرہ سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے توحید کا مشن جاری رکھا جائے۔ یہی طریقہ ابدی طور پر اہلِ اسلام کا طریقہ ہے۔ وہ جس ملک یا جس زمانے میں ہوں، ہر جگہ اسی غیر نزاعی طریقے کو اختیار کرنا ہے۔ یہی کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔

قانونِ خداوندی کے مطابق کوئی اور طریقہ کامیابی کا طریقہ نہیں ہو سکتا۔ تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 417۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.