صحیح طرز فکر۔ صحیح طرز فکر، یعنی رائٹ تھنکنگ، حکیمانہ طرز فکر کی ایک اعلیٰ قسم ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں جیتے ہیں، یا صبح و شام گزارتے ہیں، اس میں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مخلوط، یعنی مکسڈ حالت میں ہیں۔ اس بنا پر بظاہر چیزوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
چیزوں کے بارے میں صحیح رائے اس وقت قائم ہوتی ہے جبکہ آپ چیزوں کو الگ الگ کر کے دیکھ سکیں۔ اس طرح تجزیاتی مطالعے کے بغیر آدمی کے اندر صحت فکر پیدا نہیں ہو سکتی، وہ مبنی بر واقعہ سوچ کا حامل نہیں بن سکتا۔ مثلاً ایک شخص اپنے بارے میں، یا اپنی کمیونٹی کے بارے میں یہی کہے گا کہ ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا کا جو اسٹینڈرڈ تھا، کیا تمہارا اسٹینڈرڈ اس سے کم ہے؟
وہ جواب دے گا کہ نہیں، اس سے تو بہت اچھا ہے۔ مثلاً میرے باپ دادا بائیسکل پر سفر کرتے تھے، آج میں کار پر سفر کرتا ہوں۔ میرے دادا کے زمانے میں بچے معمولی مدرسے میں پڑھتے تھے، آج وہ شہر کے ایک اچھے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے دادا کچے گھر میں رہتے تھے، آج میں اور میرے بچے پکے گھر میں رہ رہے ہیں، وغیرہ۔
اب اگر آپ اس سے پوچھیں کہ جب تمہاری فیملی کا اسٹینڈرڈ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے، تو ظلم کہاں ہو رہا ہے؟ اب وہ حیران ہو جائے گا اور کہے گا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ اصل مسئلہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے: لوگوں کے اندر صحیح طرز فکر نہیں ہے۔
اس لیے لوگ شکایت میں جی رہے ہیں، حالانکہ انہیں شکر میں جینا چاہیے۔ صحیح طرز فکر، تجزیاتی فکر کا نام ہے۔ اگر آپ کے اندر ڈیٹیچڈ تھنکنگ ہو، اگر آپ تجزیاتی انداز میں سوچنا جانتے ہوں، تو آپ درست طرز فکر کے حامل بن سکتے ہیں۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 408۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.