← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Musbat soch,Manfi soch
Urdu · 6 min
مثبت سوچ، منفی سوچ۔ قرآن کی سورہ الاحزاب میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے جو سارے زمین و آسمان کو نہیں دی گئی، اور وہ امانت ہے۔ یہی امانت وہ چیز ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات بناتی ہے۔ امانت سے مراد دراصل وہی چیز ہے جس کو فری تھنکنگ کہا جاتا ہے، یعنی آزادانہ طور پر سوچنا اور آزادانہ طور پر اپنے عمل کی پلاننگ کرنا۔
اس امانت کی صحیح ادائیگی انسان کو جنت کا مستحق بناتی ہے، اور اس امانت کی ادائیگی میں ناکام ہونا انسان کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ سورہ نمبر 33، آیت 72 تا 73۔ اس موقع پر قرآن میں دو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں: ظلوم اور جہول، یعنی غیر عادل اور نادان۔ انسان اپنی آزادی کو غلط استعمال کرنے کی بنا پر بہت جلد عدل، یعنی جسٹس، سے ہٹ جاتا ہے۔
اور اسی طرح وہ آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر دانشمندی، یعنی وزڈم، کے راستے سے ہٹ جاتا ہے۔ یہی انحراف، یعنی ڈیوی ایشن، اس کو جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصلاح کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنی فطرت، یعنی نیچر، سے نہ ہٹے۔ اگر آدمی اپنے آپ پر کنٹرول کرے اور فطرت کے راستے سے نہ ہٹے، تو فطرت خود ہی اس کی رہنما بن جائے گی۔
فطرت سے ہٹنا آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے، اور فطرت پر قائم رہنا آدمی کو کامیاب بناتا ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی آزمائش اس بات میں ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح انتخاب، یعنی رائٹ چوائس، کو لے۔ وہ اپنے آپ کو غلط انتخاب سے بچائے۔ صحیح انتخاب اور غلط انتخاب کا یہ معاملہ فکر سے بھی تعلق رکھتا ہے اور عمل سے بھی۔
فکر کے اعتبار سے صحیح انتخاب وہ ہے جس کا نمونہ آغاز حیات کے وقت فرشتوں نے اختیار کیا، اور غلط انتخاب وہ ہے جس کو ابلیس نے اپنا شیوہ بنایا۔ فرشتوں سے جب کہا گیا کہ انسان کے آگے جھک جاؤ تو وہ جھک گئے۔ اس کے برعکس ابلیس اس پر راضی نہ ہوا۔ اس نے یہ اعتراض کیا کہ انسان کو خلیفۃ الارض کیوں بنایا گیا۔
یہ اعتراض انتخابی سوچ، یعنی سلیکٹو تھنکنگ، کی ایک مثال تھی۔ ابلیس جنوں کا سردار تھا، جن کو خدا نے اس سے زیادہ چیز دی تھی، یعنی خلافت کائنات۔ لیکن ابلیس نے اس پہلو کو نظر انداز کیا اور صرف یہ سوچا کہ انسان کو زمین کی خلافت کیوں دی گئی۔ یہی برائی پوری تاریخ میں رائج ہے۔
انسانوں کی 99 فیصد سے زیادہ تعداد منفی سوچ میں پڑی ہوئی ہے، یعنی انتخابی سوچ۔ ملے ہوئے کو نظر انداز کرنا، اور نہ ملے ہوئے کو مسئلہ بنا کر اس کو اپنی سوچ کا محور بنانا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کا استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع پائے ہوئے ہیں، جس طرح دوسرے لوگ ان کو پائے ہوئے ہیں۔
لیکن فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ اسی نہ ملے ہوئے کو اپنی سوچ کا مرکز و محور بنائے ہوئے ہیں، اور ملے ہوئے کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کی دلدل میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شکر سے محروم ہیں، جو کسی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ مسلمانوں کی اس منفی سوچ کا سبب کیا ہے؟
وہ ہے 99 فیصد کو نظر انداز کرنا، اور ایک فیصد کو لے کر اپنی رائے بنانا۔ یہ نہایت برا طریقہ ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوں، ان کو اس کی سب سے بڑی قیمت یہ دینی پڑے گی کہ ان کے اندر مثبت شخصیت نہ بنے۔
مثبت شخصیت سے محرومی کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے محرومی۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 406۔