Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Manfi soch ka noqsaan

Urdu · 3 min

منفی سوچ کا نقصان: تمام ناکامیوں کا سبب منفی سوچ ہے، اور تمام کامیابیوں کا سبب مثبت سوچ۔ یہی ایک لفظ میں زندگی کا خلاصہ ہے۔ منفی سوچ والا آدمی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، اور اگر وہ بظاہر کامیاب دکھائی دے تو اس کی کامیابی وقتی ہوگی۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ والے آدمی کے لیے کامیابی پائیدار بھی ہے اور یقینی بھی۔

منفی سوچ کیا ہے، اور مثبت سوچ کیا؟ منفی سوچ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جانے مگر وہ دوسروں کو نہ جانے۔ وہ مسائل کو جانے مگر وہ مواقع کو نہ جانے۔ وہ حال کو جانے مگر وہ مستقبل سے بے خبر ہو۔

وہ اپنے قریبی حالات کو جانے مگر وہ دور کے حالات سے باخبر نہ ہو۔ منفی سوچ والے آدمی کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی خول میں جیتا ہے۔ اس کے ذہن کے اندر جو خیال آ جائے، اسی کو وہ اصل حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ وہ اپنی نفسیاتی پیچیدگی کی بنا پر اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کے ذہن کے باہر جو حقیقتیں ہیں، ان کو جانے اور ان کی روشنی میں زیادہ درست رائے قائم کرے۔

منفی سوچ دراصل بند سوچ کا دوسرا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں مثبت سوچ وہ ہے جو کھلی سوچ ہو۔ مثبت سوچ والا آدمی تعصبات سے آزاد ہو کر سوچتا ہے۔ وہ معاملات میں بے لاگ رائے قائم کرتا ہے۔

اس کی رائے ہمیشہ انصاف پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ وہی سوچتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو سوچنا چاہیے، اور وہی بولتا ہے جو ازروئے واقعہ اس کو بولنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مثبت سوچ والے آدمی کی راہیں کبھی بند نہیں ہوتیں، جبکہ منفی سوچ والے آدمی کو ہر طرف اپنی راہیں بند دکھائی دیتی ہیں۔ منفی سوچ مایوسی کی سوچ ہے، اور مثبت سوچ امید کی سوچ۔

منفی سوچ راستے کو بند حالت میں دیکھتی ہے، جبکہ مثبت سوچ والے آدمی کو ہر طرف راستے کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مثبت سوچ بصیرت ہے، اور منفی سوچ بے بصیرتی۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 405۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.