مثبت سوچ: ایک ہندوستانی کو پہلی بار جاپان جانے کا موقع ملا۔ ایک روز انہوں نے اپنے جاپانی میزبان سے ازراہِ ہمدردی کہا: "آپ لوگوں کے ساتھ امریکہ نے بڑا ظلم کیا۔ اس نے تاریخ کے پہلے ایٹم بم آپ کے ملک پر گرائے، اور آپ کے دو شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔ " نہیں، کوئی ظلم نہیں، جاپانی نے کہا۔
یہ بم تو ہمارے لیے رحمت ثابت ہوئے۔ ہمارے یہ شہر قدیم طرز پر آباد تھے: تنگ اور خمدار سڑکیں، فرسودہ مکانات، گندے محلے۔ ان کا نام تھا ہیروشیما اور ناگاساکی۔ معمولی حالات میں ہم نئے طرز پر ان کی تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔
مگر جب جنگ نے اچانک ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا، تو ہم کو موقع مل گیا، اور ہم نے قدیم ملبے پر انتہائی جدید قسم کے منصوبہ بند شہر آباد کر دیے۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے: وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے: وہ ہر بربادی میں اپنے لیے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔ تعمیرِ شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 404۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.