Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Nafrat culture

Urdu · 4 min

نفرت کلچر۔ امریکہ کے سابق صدر جارج بش اپنے آخری دورِ صدارت میں عراق گئے، وہاں 4 دسمبر 2008 کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس تھی۔ اس موقع پر ایک عراقی صحافی، منتظر الزیدی، نے اپنا جوتا نکال کر جارج بش کی طرف پھینکا۔ اس واقعے پر سارا مسلم ورلڈ جھوم اٹھا۔

ایک عرب دولت مند نے اس صحافی کو 1 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، وغیرہ۔ اس واقعے کے بعد مسلم دنیا میں ایک نیا احتجاجی کلچر چل پڑا، جس کو جوتا کلچر کہا جا سکتا ہے۔ ایک مسلم اخبار نے جوتا پھینکنے کے ان مناظر کی تصویریں چھاپیں اور اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: "Shoes that made history" ۔ موجودہ زمانے کے مسلمان منفی سوچ میں جی رہے ہیں۔

مذکورہ واقعہ اس منفی سوچ کا ایک انتہائی بدنما مظاہرہ ہے۔ اس جوتا کلچر کا صرف یہ نتیجہ ہوا کہ اس نے عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑ دی۔ اس لیے اس کا صحیح عنوان یہ ہونا چاہیے: "Shoes that distorted the image of Islam" ۔ جوتا پھینکنے کا یہ کلچر اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں پر جوتا پھینکنا نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر جوتا پھینکنا ہے۔

ایسا کر کے مسلمان دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو ایکسپوز کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے پاس دوسروں کے لیے صرف نفرت کا سرمایہ ہے۔ یہ بلاشبہ وہی نفسیات ہے جس کا مظاہرہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے کیا تھا۔ جو لوگ انسان کے خلاف اس قسم کی نفرت آمیز نفسیات میں مبتلا ہوں، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل سے کس کی پیروی کر رہے ہیں۔

اس طرح کے افعال بلاشبہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والے ہیں۔ وہ کسی کو خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والے نہیں۔ سچا مومن وہ ہے جو انسان سے محبت کرے۔ جو لوگ انسان سے نفرت کریں، وہ سچے مومن نہیں۔

جوتا کلچر انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے اور ایمان اور اسلام کے بھی خلاف۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 382۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.