← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Ikhtelaaf ko hal karne ki tadbeer
Urdu · 17 min
اختلاف کو حل کرنے کی تدبیر: قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ "الحرب أنفال الحرب" یعنی جنگ کا توڑ جنگ ہے۔ یہ فکر ہزاروں برس سے انسان کے اندر چلی آ رہی تھی۔ بدقسمتی سے یہی فکر تاریخی تسلسل کے نتیجے میں خود مسلمانوں میں کسی نہ کسی طور پر جاری رہا۔ حضرت عثمان کی شہادت سے لے کر اب تک کی مسلم تاریخ میں اس کے نمونے پھیلے ہوئے ہیں۔
1948 عیسوی میں فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا، جو عملاً پوری مسلم دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا۔ اس وقت بھی تمام مسلم ذہن اسی ڈھنگ پر سوچنے لگے۔ اس سوچ کی نمائندگی ایک عرب شاعر، خیرالدین الازرکلی، وفات 1976 عیسوی کے شعر میں ان الفاظ میں ملتی ہے: "صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حتین یا حتین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو۔ " "حاتي صلاح الدين ثانيةً فينا، وجددي حتينا أو شبه حتينا." اقبال اپنے علم اور ذہانت کے باوجود اس فکر سے اوپر نہ اٹھ سکے۔
ان کا پورا کلام کسی نہ کسی طور پر اسی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا یہ شعر پڑھیے: "گفتند جہان ماں آیا بتومی سازد، گفتم کہ نمی سازد گفتند کہ برہم زن۔ " یعنی دریافت فرمایا کہ میرا جہاں تمہارے ساتھ سازگاری کر رہا ہے۔ میں نے جواب دیا: سازگاری نہیں کر رہا، کہا کہ اسے درہم برہم کر دو۔
اسلام اس معاملے میں انقلابی تبدیلی کا پیغام تھا۔ جنگ کیوں ہوتی ہے؟ جنگ ہمیشہ اختلافات کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ لوگ اختلاف کو صرف مٹانا جانتے تھے، اس لیے وہ فوراً فریق ثانی سے لڑ جاتے تھے۔
اسلام نے اس معاملے میں ایک نئے اصول کو رواج دیا۔ قرآن میں یہ اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" سورہ نمبر 4 آیت 128۔ یعنی: "اور صلح بہتر ہے۔ " اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ صلح بہتر ہے۔
صلح کیا ہے؟ صلح یہ ہے کہ اختلاف کو مٹانے پر زور نہ دیا جائے، بلکہ اختلاف کو گوارا کرتے ہوئے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ گویا اس کا مطلب ہے: اختلاف کے باوجود اتحاد۔ اس فارمولے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکے میں 610 عیسوی میں دعوت توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطہ نظر سے مکے میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر یعنی کعبے میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: "طہیر الکعبۃ من الاصنام" یعنی کعبے کو بتوں سے پاک کرو۔
بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری کہ "وَثِيَّابَكَ فَطَّهِّرْ" سورہ نمبر 74 آیت 4۔ یعنی: اپنے اخلاق کو درست کرو۔ اس قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکے کے 13 سالہ قیام کے زمانے میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کر دی۔
پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں واقعہ "صلح حدیبیہ" 628 عیسوی کا ہے۔ یہ صلح گویا ڈفرنس مینجمنٹ کی ایک کامیاب مثال تھی، جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو، وہ ہر حال میں ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو حل کرے۔
کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے۔ حدیث کے مجموعوں میں "کتاب الفتن" کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئی ہیں، جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امارہ اور حکام کے اندر بگاڑ آئے گا، مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے باوجود ان کا حق ادا کرنا، اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا۔ "أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ" مسند احمد، حدیث نمبر 3641۔
اس معاملے میں ایک حدیث وہ ہے جو سنن ابو داؤد، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ، اور مسند احمد میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے، اس کا آخری حصہ یہ ہے: "إِنِّي لَأَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ فَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعَ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" تفسیر عبدالرزاق، حدیث نمبر 814۔ یعنی: مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن لیڈروں سے ہے، اور جب تلوار میری امت میں داخل ہوگی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت میں جب اختلافات پیدا ہوں گے تو نااہل لیڈر ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو رفع نہ کر سکیں گے، بلکہ وہ اختلاف کو دور کرنے کے نام پر لڑائی چھیڑ دیں گے۔
اور جب ایک بار امت میں دین کے نام پر لڑائی کی روایت قائم ہو گئی تو اجتماعی نفسیات کی بنا پر وہ قیامت تک جاری رہے گی۔ حدیث کی یہ پیشن گوئی بدقسمتی سے امت کی بعد کی تاریخ کے بارے میں درست ثابت ہوئی۔ امت کے اندر وضع سیف کا یہ معاملہ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کی شہادت کے ساتھ شروع ہوا۔ پھر اس کے بعد وہ اس طرح مسلسل جاری ہو گیا کہ امت کی ہزار سالہ تاریخ میں وہ کبھی ختم نہیں ہوا۔
خلیفہ چہارم اور دم عثمان کے نام پر اٹھنے والوں کے درمیان جنگ، حسین اور یزید کے درمیان جنگ، بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگ، سنی اور شیعہ کے درمیان جنگ، مغلوں اور غیر مغلوں کے درمیان جنگ۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان جنگ وغیرہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اِخْتِلاَفُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ الْمَقَاصِدُ الْحَسَنَةُ" حدیث نمبر 39۔ یعنی: میری امت کا اختلاف رحمت ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف یعنی ڈفرنس خدا کے تخلیقی نقشے کا ایک حصہ ہے۔ وہ فطرت کا ایک لازمی جز ہے۔ اس لیے اختلاف کبھی زندگی سے ختم نہیں ہوتا۔ امت کے اصحاب علم و معرفت اس راز کو سمجھیں گے اور اختلاف کو مٹانے کے بجائے اختلاف کے ساتھ جینے کی کوشش کریں گے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ اس طرح سنت کی پیروی کی صورت میں اختلاف امت محمدی کے لیے رحمت بن جائے گا۔ اختلاف کے ہوتے ہوئے وہ ترقی کا پرامن سفر کامیابی کے ساتھ طے کر سکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح دوسری بہت سی سنتیں ہیں، اسی طرح وہ چیز بھی ایک سنت رسول ہے جس کو ہم نے آرٹ آف ڈفرنس مینجمنٹ کا نام دیا ہے۔
اس اصول کا تعلق اسلام کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ کوئی بھی پہلو اس سے خالی نہیں۔ مثال کے طور پر فقہی اختلافات جو ہزار سال سے اب تک ٹکراؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں، ان کے معاملے میں ڈفرنس مینجمنٹ کا سادہ اصول یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ یہ اختلافات توسع پر مبنی ہیں، نہ کہ تعدد پر۔ ان میں سے جس طریقے کی بھی پیروی کی جائے، وہ درست ہوگا۔
بِأَيِّهِمْ اِخْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ اسی طرح علی اور معاویہ کا معاملہ، یا یہ سوال کہ چاروں خلفاء کے درمیان تفضیل کی بحث، اس قسم کے معاملات میں ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول کا انطباق یعنی اپلیکیشن یہ ہے کہ اس کو خدا کے حوالے کر دیا جائے۔ اور ہر فرقہ اپنی آج کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں مشغول ہو جائے۔ موجودہ زمانے میں اکثر مسلم ملکوں میں سیکولر حکمرانوں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان تباہ کن ٹکراؤ جاری ہے۔ اس معاملے میں ڈفرنس مینجمنٹ کا انطباق یہ ہے کہ اسلام پسند جماعتیں حکومت کے دائرے میں براہ راست مداخلت کا طریقہ چھوڑ دیں۔
وہ غیر حکومتی دائرہ، مثلاً تعلیم اور اصلاح اور دعوت کے شعبوں میں اپنی کوششیں صرف کریں۔ موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان لیڈر یا مسلم گروہ مختلف ملکوں میں کسی نہ کسی قومی یا ملی مقصد کے حوالے سے غیر مسلم حکومتوں سے متشددانہ ٹکراؤ کا سلسلہ جاری کیے ہوئے ہیں، مثلاً فلسطین اور کشمیر اور چیچنیا اور فلپائن وغیرہ میں۔ ان مقامات پر ڈفرنس مینجمنٹ کے اصول کا انطباق یہ ہے کہ ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور صرف مسلمہ پرامن طریقہ کار کی پابندی کرتے ہوئے اپنی تحریک چلائی جائے۔ قرآن کریم کی آیت "وَالصُّلْحُ خَيْرٌ" سورہ نمبر 4 آیت 128 یعنی "صلح بہتر ہے" بتاتی ہے کہ ڈفرنس مینجمنٹ کا مذکورہ طریقہ مطلق طور پر خیر کا سبب ہے۔
وہ ہر حال میں قابل عمل ہے۔ یہ طریقہ صرف اس وقت ناقابل عمل بن جاتا ہے جبکہ تشدد کا آغاز کر کے فضا کو بگاڑ دیا جائے۔ تشدد کا آغاز لازمی طور پر جوابی تشدد پیدا کرے گا، اور پرامن طریقہ کار کو اختیار کرنا ممکن نہ رہے گا۔ اگر مسلمان یہ غلطی کریں کہ تشدد کا آغاز کر کے وہ صورتحال کو بگاڑ دیں، تو خود انہی کو دوبارہ صورتحال کو نارمل بنانے کی ذمہ داری لینی پڑے گی۔
اور وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے تشدد کو ایک طرفہ طور پر ختم کر دیں، تاکہ وہ موافق فضا پیدا ہو جس میں ڈفرنس مینجمنٹ پر عمل کرنا ممکن ہو جائے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ مذکورہ اصول فطرت ہی کا ایک اصول ہے جس کو اسلام میں اختیار کیا گیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں۔
ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو "مسٹر ڈفرنٹ" کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے، اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابل عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے، نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔
It requires difference management rather than eliminating the difference فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملے سے بھی ہے اور سیکولر معاملے سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق و اختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے، اور فرق و اختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ فرق و اختلاف کوئی برائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔
فرق و اختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے، اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحد راز ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 383۔