Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Ishteaal nahi

Urdu · 4 min

اشتعال نہیں۔ ایک صاحب ہیں، وہ بظاہر عام حلیے میں رہتے ہیں، مگر مزاج کے اعتبار سے بہت دین دار ہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی ہیں، اور قرآن و حدیث کے موضوعات پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ایک روز نمازِ جمعہ کے بعد مسجد میں ان کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی۔

موصوف کے ساتھی نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں صاحب ہیں، اور وہ قرآن و حدیث پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ بزرگ نے موصوف کی طرف دیکھا تو انہوں نے پایا کہ وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں، سر پر گاندھی ٹوپی ہے، داڑھی بھی ایک ایک مشت کے ناپ سے کم ہے۔ بزرگ نے یہ دیکھ کر فرمایا: "صورت سے تو ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ " بزرگ کی زبان سے یہ توہین آمیز تبصرہ سن کر موصوف کو غصہ آ گیا، تاہم انہوں نے برداشت کر لیا۔

وہ ایک لمحہ چپ رہے اور اس کے بعد بولے: "آپ کا ارشاد بجا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کبھی گنہگاروں سے بھی اپنا کام لے لیتے ہیں۔ " یہ ٹھنڈا جواب مذکورہ بزرگ کے لیے اتنا سخت ثابت ہوا کہ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشتعال کے وقت آدمی کو کیسا جواب دینا چاہیے۔ جب بھی کوئی آدمی آپ پر تنقید کرتا ہے، آپ کے خلاف کوئی سخت بات کہہ دیتا ہے، تو آپ کے بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔

آپ چاہنے لگتے ہیں کہ اس کو بھسم کر دیں، جس طرح اس نے آپ کو بھسم کیا ہے۔ مگر یہ طریقہ شیطانی طریقہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کڑواہٹ کو پی جائیں۔ جو جھٹکا آپ پر لگا ہے، اس کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کے بجائے، خود اپنے آپ پر سہ لیں۔

جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو ایک نئی قوت حاصل ہوگی۔ آپ اس حکمت کو جانیں گے کہ کڑوے الفاظ کا جواب میٹھے الفاظ سے دینا زیادہ سخت جواب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اشتعال کے وقت جو شخص صبر کرے اور سوچ سمجھ کر بولے، وہ زیادہ طاقتور انداز میں اپنی بات کہنے کے لائق ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ مشتعل الفاظ کا جواب ٹھنڈے الفاظ سے دے، اور ٹھنڈک آگ کو زیادہ بجھانے والی ہے۔

وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے مخالف کو معاف کر دے، اور معاف کر دینا یقیناً سب سے بڑا انتقام ہے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 366۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.