Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Insan ki riaayat

Urdu · 8 min

انسان کی رعایت: نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے، اور محبت کے جواب میں محبت۔ اسی لیے اسلام نے یہ طریقہ سکھایا ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو حکمت و محبت کے ساتھ سمجھاؤ، جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "يَسِّرُوا وَلَا تُعَصِّرُوا، وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا" صحیح البخاری، حدیث نمبر 69۔ یعنی تم لوگوں کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو، تم لوگوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہ کرو۔

تم لوگوں کو خوشخبری دو، تم لوگوں کو متنفر نہ کرو۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں فجر کی جماعت میں اس لیے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں صاحب ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں۔ آپ یہ سن کر غضب ناک ہو گئے، حتیٰ کہ اس سے زیادہ غضب ناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَمَنْ أَمَّنَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذَا الْحَاجَةُ" صحیح البخاری، حدیث نمبر 704۔

یعنی اے لوگو! تم میں کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے، اس کو چاہیے کہ مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے، کوئی بوڑھا، کوئی ضرورت مند۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ایک روایت میں بتاتے ہیں کہ معاذ ابن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے، یہاں سے واپس ہو کر جاتے اور اپنے محلے والوں کی امامت کرتے۔

ایک دن انہوں نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ البقرہ پڑھی۔ ایک آدمی لمبی قرأت سے گھبرا کر نماز سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا، البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا: "فَتَّانٌ فَتَّانٌ فَتَّانٌ" صحیح البخاری، حدیث نمبر 701۔

یعنی فتنہ انگیز، فتنہ انگیز، فتنہ انگیز۔ اس سلسلے کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ وہ ہے جبکہ ایک دیہاتی شخص آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا: "فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَصِّرِينَ" صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128۔

یعنی تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ قدیم زمانے میں کعبے کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی سے گر گئی تھی۔ قریش نے دوبارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا، بلکہ چھوٹا کر کے بنایا۔ آپ چاہتے تھے کہ اس کو دوبارہ بنائیں۔

آپ چاہتے تھے کہ اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم کے مطابق بنوا دیں، مگر اس اندیشے سے کہ کعبے کی عمارت کے ساتھ جو تقدس شامل ہے، اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کر سکیں۔ آپ اس سے باز رہے۔ آپ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا: "لَوْلَا حَدَاثَتُ أَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَصْتُ الْكَعْبَةَ وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَثَاثِ إِبْرَاهِيمِ" صحیح البخاری، حدیث نمبر 1585۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333۔

یعنی اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ ان احادیث رسول میں دراصل انسانی رعایت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ انسان کے ساتھ آخری حد تک رعایت کا معاملہ کیا جائے۔ قول یا عمل، کسی میں بھی شدت کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔

اس رعایت کا مطلب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کے لیے صحیح نقطہ آغاز، یعنی سٹارٹنگ پوائنٹ، اختیار کیا جائے۔ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعمال کے ظاہری پہلوؤں کے بارے میں رعایت کا معاملہ کیا جائے اور زیادہ زور اور تاکید اعمال کے داخلی پہلوؤں پر دیا جائے، کیونکہ ظواہر کی اصلاح سے داخلی اصلاح نہیں ہوتی، بلکہ اس کے برعکس داخلی اصلاح سے ظواہر کی اصلاح ہوتی ہے۔ رعایت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو دین پر عمل کرنا زیادہ مشکل نہیں معلوم ہوتا۔ وہ متوحش ہوئے بغیر دینی اعمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے آدمی کے داخل کی اصلاح ہوتی ہے، پھر دھیرے دھیرے اس کے ظواہر بھی دین کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ رعایت دراصل حکیمانہ طریقہ کار کا دوسرا نام ہے۔ اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی اصلاح ہمیشہ حکیمانہ طریقہ کار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر حکیمانہ طریقہ کار کے ذریعے۔ مصلح کا طریقہ ہمیشہ رعایت کا ہونا چاہیے۔

مصلح کا سارا زور اس پر ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر جذبہ عمل پیدا کرے۔ عمل کا جذبہ پیدا ہوتے ہی آدمی وہ کام خود کرنے لگتا ہے جس کو شدت پسند مصلح ناکام طور پر انجام دینا چاہتا ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 364۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.