Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Iaraaz ka tareeqa

Urdu · 3 min

اعراض کا طریقہ: سورہ الاعراف میں اہلِ ایمان کو چند اخلاقی نصیحتیں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک نصیحت یہ ہے کہ باہمی معاملات میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: خُذِ الْعَفْوَ وَامُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ سورہ نمبر 7، آیت 199۔ یعنی: درگزر کرو، نیکی کا حکم دو، اور نادانوں سے اعراض کرو۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان اختلاف پیدا ہوتا ہے، ایک دوسرے کے درمیان بحث اور تکرار شروع ہو جاتی ہے۔

ایسے موقع پر درست طریقہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ اگر فریقِ ثانی سنجیدہ ہو، وہ مسئلے کو حقیقی طور پر سمجھنا چاہتا ہو، تو ایسی صورت میں دلیل کے ذریعے اس کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہیے۔ اور اگر وہ سنجیدہ نہ ہو تو ایسی حالت میں دلیل اور منطق اس کو متاثر نہ کر سکے گی۔ وہ ہر دلیل کے جواب میں کچھ خود ساختہ الفاظ بول دے گا، اور پھر یہ سمجھے گا کہ اس نے پیش کردہ دلیل کو رد کر دیا ہے۔

اس دوسری صورت میں درست طریقہ یہ ہے کہ اعراض یعنی avoidance کے اصول پر عمل کیا جائے۔ اعراض کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کو اس کے ضمیر کے حوالے کر دیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ جو مقصد دلیل کے ذریعے پورا نہیں ہوا، وہ ضمیر کی خاموش آواز کے ذریعے پورا ہو جائے۔ عملی نزاع کو ختم کرنے کے لیے بھی سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ اعراض ہے۔

عملی نزاع کے وقت اگر اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے تو نزاع اپنے پہلے ہی مرحلے میں ختم ہو جائے گی۔ جبکہ اعراض نہ کرنے کا نقصان یہ ہے کہ نزاع بڑھتی رہے، یہاں تک کہ چھوٹی برائی یعنی lesser evil کی جگہ بڑی برائی یعنی greater evil کا سامنا کرنا پڑے۔ اعراض کوئی سادہ چیز نہیں، وہ ایک اعلیٰ اخلاقی روش ہے۔ وہ ایک اعلیٰ انسانی طریقہ ہے۔

کوئی شخص جب اشتعال کی صورت پیش آنے پر بھڑک اٹھے تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اشتعال کی صورت پیش آنے پر نہ بھڑکے، وہ ایسا کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک بلند انسانی مرتبے پر ہے۔ وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 338۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.