Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Rujz se iaraaz

Urdu · 3 min

رجسِ اعراس۔ مکے کے ابتدائی دور میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم اترا کہ لوگوں کے درمیان انذار کا کام کرو۔ اس سلسلے میں ایک مزید حکم دیا گیا: "وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ" سورہ نمبر 74 آیت 5، یعنی رجس کو چھوڑ دو۔ رجز کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ رجسِ اعراس کرتے ہوئے اپنے مشن کا کام مثبت طور پر جاری رکھو۔

رجس کا لفظی مطلب ہے گندگی، یعنی dirt۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رکاوٹ والی چیزوں سے نہ الجھتے ہوئے اپنا کام جاری رکھو، اتھارٹی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے، اپنا مشن ممکن حدود میں پرامن طور پر جاری رکھو۔ بے نتیجہ عمل سے دور رہتے ہوئے نتیجہ خیز سرگرمیوں میں اپنی کوشش صرف کرو۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ جب کسی مقصد کے لیے اٹھتے ہیں تو سب سے پہلے رکاوٹوں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

وہ اتھارٹی سے ٹکراؤ کو اپنے عمل کا آغاز سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی طاقتیں ضائع ہوتی ہیں، نفرت اور تشدد بڑھتا ہے، منفی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں لیکن مثبت سرگرمیوں کو فروغ پانے کا موقع نہیں ملتا۔ جو ملنے والی چیز ہے، اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ البتہ جو چیز ملنے والی نہیں، اس پر ساری طاقت خرچ کر دی جاتی ہے۔

یہ بلاشبہ غیر حکیمانہ طریقہ ہے، لیکن پوری تاریخ میں لوگ اسی طریقے پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر صورتحال میں مواقع، یعنی opportunities، موجود رہتے ہیں۔ مواقع کو استعمال کر کے فوراً ہی نتیجہ خیز عمل شروع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن غیر دانشمندانہ سوچ کی بنا پر لوگوں کا دھیان فوراً مسائل، یعنی problems، کی طرف چلا جاتا ہے۔

اس معاملے میں قرآن نے ایک ایسی رہنمائی دی جو سرتاسر دانشمندی پر قائم ہے، یعنی مسائل اور مواقع کو ایک دوسرے سے de-link کرنا۔ مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا۔ Ignore the problem, avail the opportunity. تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 337۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.