سوال: آج ساری دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں۔ کہیں کارٹون بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں، تو کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں امت مسلمہ کا کیا رول ہونا چاہیے؟ جیسا کہ ظلم و ستم کو روکنے کا حکم ہے، اور نہ روک سکیں تو دعا کرنے کا حکم۔
برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں، جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ مسلمان روکنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دعا کرنے کی پوزیشن میں؟ آپ کی بات اور آپ کا انداز سب سے جدا ہے، اور مجھے مطمئن کرنے والا ہوتا ہے۔ حماد احمد، نئی دہلی۔
جواب: یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں یا ان کو مشتعل کیا جا رہا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان بعض واقعات پر غیر ضروری طور پر مشتعل ہو رہے ہیں۔ وہ غیر ضروری طور پر ان واقعات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں صبر و تحمل پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے، حتیٰ کہ نماز سے پہلے صبر کا حکم ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ سورہ نمبر 2 آیت 45۔
مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز تو دھوم سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ صبر کو پوری طرح چھوڑے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے رویے کو بدلیں۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں مسلمان کیا کریں؟ وہ ان واقعات کو روکیں یا وہ اس کے لیے دعا کریں؟
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کو خود اپنے آپ کو روکنا ہے، اور خود اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلقہ افراد سے ملیں، اور ان کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔
مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ آپ آزادی کو ختم نہیں کر سکتے، اس لیے اس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ تبلیغ و نصیحت کے ذریعے اس آدمی کی سوچ کو بدلیں، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اس کے ذہن کو درست کریں، اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 312۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.