سوال: میرا ایک مسئلہ ہے جس نے مجھ کو بہت مغموم کر رکھا ہے۔ مسئلہ یوں ہے کہ بندہ بالوں کے گرنے کی پرابلم سے دوچار ہے۔ بال گرتے تو ہیں، مگر دواؤں کے باوجود وہ دوبارہ نہیں اگتے۔ کیا رب العالمین اس پر قادر نہیں؟
کیوں ایسا ہے کہ خدا نے کسی کے سر پر خوبصورت بال دیے اور کسی کو گنجا بنا دیا؟ برائے مہربانی آپ اپنی رائے سے نوازیں۔ عمر رفیق، سری نگر، کشمیر۔ جواب: آپ کے جذبات قابلِ قدر ہیں۔
بال کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز آزمائش کے لیے ہوتی ہے: ملنا بھی اور نہ ملنا بھی۔ اسی طرح آدمی کے سر پر اچھے بال کا اگنا بھی آزمائش ہے، اور بال کا جھڑنا یا سفید ہونا بھی آزمائش ہے۔ اس آزمائش میں پورا اترنا یہ ہے کہ آدمی دونوں حالتوں کو یکساں طور پر خدا کی طرف سے سمجھے: وہ ملنے پر نازاں نہ ہو، اور نہ ملنا اس کو مایوسی میں مبتلا نہ کرے۔
آپ بال کے مسئلے کے بارے میں علاج کریں، مگر کسی بھی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ: اے اللہ، میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں، تو میرے لیے حسنِ تلافی کا فیصلہ فرما۔ مجھے آخرت میں جنت دے دے، جہاں نہ کوئی بیماری ہوگی اور نہ کوئی محرومی۔ انسان کو خود سے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں مانگنا چاہیے۔
لیکن اگر اس پر کوئی مصیبت آ جائے تو اس وقت اس کو کامل صبر کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ یہی مومن کا طریقہ ہے، اور یہی جنت کی قیمت ہے۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 311۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.