Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 5 min

سوال: میں ایم اے انگریزی، یعنی MA English from IGNOU، کی طالبہ ہوں، اور جنوری 2002 سے میں الرسالہ پڑھتی رہی ہوں۔ پہلی بار جب الرسالہ میرے ہاتھوں میں آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی، اور پڑھنے کے بعد حقیقت میں دل بہت خوش ہوا۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں الرسالے سے فوراً متاثر ہو گئی۔ اس سے میری معلومات میں اضافہ ہوا، ایسا لگا جیسے الرسالہ صرف دل کو ہی نہیں بلکہ روح کو بھی تسکین دیتا ہے۔

تب سے میں نہایت ہی پابندی کے ساتھ الرسالے کا مطالعہ ہر ماہ کر رہی ہوں۔ بے شک اس کے مطالعے میں، بے شک اس کے مطالعے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، بہت کچھ حاصل کیا ہے، اور میں اس کا پورا کریڈٹ آپ کے نام کروں گی۔ بلاشبہ آپ کی عظیم شخصیت کی بدولت ہی یہ سب کچھ ممکن ہو سکا۔ بے شک مجھے اس کے ذریعے اسلام کی حقیقت سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔

مگر کچھ باتوں سے میں متفق نہیں ہوں، وہ یہ کہ ہر معاملے میں مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے، پھر یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ یہ مسلمانوں کی غلطی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ رخشاں ہاشمی، مونگیر۔ جواب: مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اصل سوال یہ جاننے کا ہے کہ فطرت کا قانون کیا ہے۔

ہماری رائے فطرت کے قانون کے مطابق ہونی چاہیے، نہ کہ اپنے جذبات یا خواہشات کے مطابق۔ قرآن میں فطرت کا یہ قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ سورہ نمبر 42، آیت 30۔ یعنی: اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے پہنچتی ہے۔ قرآن کی یہ آیت حتمی الفاظ میں بتا رہی ہے کہ لوگوں کے اوپر جو مصیبت آتی ہے، وہ ان کے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ایک اور آیت میں فرمایا: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا سورہ نمبر 3، آیت 120۔ یعنی: اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ اس دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ اغیار کی سازش کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ یعنی اگر مسلمانوں میں صبر اور تقویٰ ہوگا تو وہ اغیار کی سازش سے محفوظ رہیں گے، اور اگر صبر اور تقویٰ نہیں ہوگا تو وہ اغیار کی سازشوں کا شکار ہو جائیں گے۔

ان قرآنی آیات کے مطابق آپ نے جن باتوں کے بارے میں اپنے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے، اس کا تعلق الرسالہ سے نہیں ہے، بلکہ خود قرآن سے ہے۔ آپ کو اگر کہنا ہے تو یہ کہیے کہ مجھ کو قرآن کی بات سے اتفاق نہیں ہے، چونکہ یہ بات الرسالے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خود قرآن کی بات ہے۔ مذکورہ قسم کی آیتوں کا مطالعہ کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ جب کوئی افتاد پڑھے تو مسلمانوں کے اندر احتساب خویش، یعنی انٹروسپیکشن کا جذبہ جاگنا چاہیے۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور شکایت کرنا سراسر قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 309۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.