سوال عام طور پر کہا جاتا ہے کہ "میں تشدد کا حامی نہیں"، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا تو بہت ضروری ہے۔ براہِ کرم اس معاملے میں وضاحت فرمائیں۔ ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور۔ جواب: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ «وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا» سورہ نمبر 3، آیت 120۔
یعنی: اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ دوسرے الفاظ میں، سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقویٰ کی روش اس کا توڑ ہے۔ قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ کیونکہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی روش پیدا کر کے ہی سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔
قانون فطرت کے تحت سازش کا خاتمہ ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مثبت ردِعمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں۔ جس چیز کو سازش کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امر فطری ہے؛ اس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی سے ہے۔ یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پر دی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی۔
اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جا سکتا۔ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لاحاصل طور پر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔
اس معاملے میں اصل حقیقت تدبیرِ کار کی ہے، نہ کہ سازش سے باخبر ہونے کی۔ اسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ "اے مسلمانو! تم سازش سے باخبر رہو"، بلکہ یہ فرمایا کہ "تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو"۔ صبر کی روش اختیار کر کے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے۔
تعمیرِ شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 308۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.