سوال: اپنے علم میں اضافے کی غرض سے میں نے اپنے 21 جون 2004 کے خط میں آپ کی مدد چاہی تھی، مگر آپ کا جواب "مورخہ 3 جولائی" اپنی نوعیت میں میرے استفسار کا جواب نہیں ہے، بلکہ محض میرے سوال کی تردید ہے۔ عالمانہ جواب باقی ہے: ذوالقفل قرآن ہی کے تو الفاظ ہیں، النبی الخاتم کا حوالہ اس لیے نہیں تھا کہ النبی الخاتم کا حوالہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ میرے ہم خیال ہو جائیں، بلکہ اس لیے تھا کہ براہِ راست اسے دیکھ لیں، اور اس کی روشنی میں دوسرے علما و مفسرین جن تک میری رسائی نہیں ہے اور آپ کی یقیناً ہو سکتی ہے، ان کی تحقیق یا آراء کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں۔ محمد رضوان احمد، شیخپورہ، بہار۔ جواب: ذوالقفل کا ذکر قرآن میں 2 سورتوں میں آیا ہے: سورۃ صاد آیت 48 اور سورۃ الانبیاء آیت 85۔
مگر قرآن یا حدیث میں ذوالقفل کے بارے میں مزید تفصیل مذکور نہیں۔ بعض مفسرین، مثلاً مفسر الوسی یعنی صاحب روح المعانی، نے لکھا ہے کہ ذوالقفل سے مراد وہ بزرگ ہیں جن کا ذکر بائبل میں حزقیل پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہے، مگر یہ محض قیاس ہے، اس کی کوئی بنیاد نہ تاریخ میں موجود ہے اور نہ قرآن و حدیث میں۔ خود بائبل میں حزقیل کا ذکر تو ہے، مگر بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ حزقیل کا لقب ذوالقفل تھا۔ ذوالقفل کے لفظی معنی صاحبِ نصیب کے ہوتے ہیں۔
میرے نزدیک اس قسم کے مسائل میں زیادہ غور و خوض کرنا درست نہیں۔ غور و خوض مفید طور پر صرف ان مسائل میں کیا جا سکتا ہے جن میں رائے قائم کرنے کے لیے کوئی متفق علیہ بنیاد موجود ہو۔ یہ بنیاد صرف دو ہو سکتی ہے: تاریخ یا وحی۔ مگر ذوالقفل کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے دونوں میں سے کوئی بھی بنیاد دستیاب نہیں۔
ایسی حالت میں اس سوال کو اس خانے میں ڈالنا چاہیے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ خدا نے کچھ باتوں کو علم کے باوجود ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ان معاملات میں بحث نہ کرے۔ وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءٍ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396۔ ذوالقفل کے بارے میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کا ذکر قرآن میں کس پہلو سے آیا ہے۔
وہ پہلو یہ ہے کہ ذوالقفل اور دوسرے انبیاء کا ذکر کر کے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ سب کے سب صبر کرنے والے تھے۔ سورۃ نمبر 21 آیت 85۔ ایسی حالت میں ہمیں اس سے یہ نصیحت لینا چاہیے کہ ذوالقفل اور دوسرے پیغمبروں کا کردار صابرانہ کردار تھا۔ ہمیں بھی اسی پیغمبرانہ اسوے کو لیتے ہوئے، ہمیں بھی اسی پیغمبرانہ اسوے کو لیتے ہوئے، ہر معاملے میں صبر کی روش اختیار کرنا چاہیے۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 306۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.