Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 3 min

سوال عام تاثر یہ ہے کہ پوری دنیا کی غیر مسلم قومیں مسلمانوں کے درپے ہیں، اور مسلم دنیا سازشوں کے نرغے میں ہے۔ کیا یہ صحیح ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کا حل کیا ہے؟ ایک قاری الرسالہ، سری نگر۔ جواب: اس قسم کی سوچ بلاشبہ غلط ہے، کیونکہ وہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔

موجودہ دنیا کو امتحان کی بنیاد پر بنایا گیا ہے، اس لیے انسان کو خود خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے، اور جب آدمی اپنی آزادی کو استعمال کرے گا تو وہ صرف اپنے انٹرسٹ کو دیکھے گا، وہ دوسرے کے انٹرسٹ کو دیکھ کر اپنا منصوبہ نہیں بنائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی آزادی دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دوسرے انسان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو چیلنج سمجھے، اور دوسرے سے لڑائی یا نفرت کیے بغیر اپنے لیے ترقی کا راستہ نکالے۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا سورہ نمبر 3 آیت 120۔

یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس آیت میں جو رہنمائی دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر تم کو دوسروں کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو سازش بتا کر احتجاج یعنی پروٹیسٹ نہ کرو، بلکہ صورتحال کا بے لاگ جائزہ لے کر مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ زندگی کے مواقع جس طرح ایک شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ دوسرے شخص کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ اس لیے کرنے کا اصل کام مواقع کو استعمال کرنا ہے، نہ کہ دوسرے کے خلاف چیخ و پکار کرنا۔

کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف چیخ و پکار کرنا، بے اعتبار نتیجہ صرف اپنی تباہی میں اضافہ کرنا ہے، کیونکہ یہ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 305۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.