Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 3 min

سوال: راقم آج کل "تذکیر القرآن" کے ساتھ "الرسالے" کا مطالعہ کر رہا ہے۔ "الرسالے" کو پڑھ کر مختصراً یہ محسوس ہوا کہ آپ ایک انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے معاملات میں ہر صورت میں خود ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، اور ہر مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا درس دیتے ہیں، لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جبکہ فریقین باہمی رضامندی سے مسئلہ فساد کو مٹانے کی نیت رکھتے ہوں اور زورآور کمزور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے۔ سید غلام احمد بخاری، بیر و کشمیر۔ جواب: میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ میں نے اپنے ذاتی خیال کے طور پر نہیں لکھا ہے، بلکہ خدا کے مقرر کردہ قانون فطرت کے حوالے سے لکھا ہے۔

ہم جس دنیا میں ہیں، اس دنیا کو خدا نے بنایا ہے؛ یہ خود خدا ہے جس نے اس دنیا کے لیے قوانین مقرر کیے۔ ہمارے لیے کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم خدا کے قانون کو دریافت کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ قرآن کا مطالعہ کیجیے تو قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اجتماعی معاملہ پیش آئے تو آدمی کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کو دریافت کرنا ہے۔ اپنی غلطی کو دریافت کر کے اس کی اصلاح کرنا، یہی مسئلے کا واحد حل ہے۔

خران میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے، وہ صرف تمہارے کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سورہ نمبر 42، آیت 30۔ دوسری جگہ خران میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔ سورہ نمبر 3، آیت 120۔

اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ شکایت اور احتجاج کا ذہن سرتاسر ایک غیر فطری ذہن ہے۔ شکایت اور احتجاج پر مبنی تحریکوں سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں، کیونکہ ایسی تحریکیں خدا کے نقشے کے خلاف ہیں۔ ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی روش پر نظرِ ثانی کریں، داخلی محنت اور پرامن تدبیر کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے سوا جو طریقہ ہے، وہ صرف ایک خود ساختہ طریقہ ہے، اور ایسے خود ساختہ طریقوں سے خدا کی مدد ملنے والی نہیں۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 304۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.