← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sawal-o-jawab
Urdu · 14 min
سوال: آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں "ابواب الفتن" کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرما دیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج یعنی بغاوت نہ کرنا، تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا۔ فکر اسلامی، صفحہ 153۔ لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطۂ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔
مثال کے طور پر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے: عن عبد الله بن خباب عن أبيه قال: كنّا قعودًا على باب النبي صلى الله عليه وسلم فخرج علينا فقال: اسمعوا قلنا قد سمعنا. قال: اسمعوا قلنا قد سمعنا. قال: اسمعوا قلنا قد سمعنا. قال إنه سيكون بعدي أمراء، فلا تصدقوهم بكذبهم، ولا تعينوهم على ذكر الزجر عن تصديق الأمراء بكذبهم ومعونتهم على ظلمهم، إذ فاعل ذلك لا يرد الحوض.
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 284۔ یعنی: حضرت عبد الله بن خباب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے، آپ نے فرمایا: سنو۔ ہم نے عرض کیا: یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا: سنو۔
ہم نے کہا: یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا: سنو۔ ہم نے کہا: یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا: بے شک میرے بعد حکمران ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا، اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیونکہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں آئے گا۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمران تمہارے اوپر مسلط ہو جائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت و اعانت نہ کرو۔ نمبر 2: قرآن میں آیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آوازِ حق بلند کرے، اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا، کیونکہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ و فغاں کو سنتا ہے، اس لیے وہ درگزر سے کام لیتا ہے، اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: لا یحب الله الجهر بالسوء من القول إلا من ظلم، وكان الله سميعًا عليمًا. سورہ نمبر 4، آیت 148۔
یعنی: اللہ بدگوئی کو پسند نہیں کرتا، مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لیے اس کے سامنے انصاف کی بات کہنا افضل جہاد بتایا گیا ہے۔ عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أفضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر". سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4344۔
سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4011۔ مسند احمد، حدیث نمبر 11144۔ یعنی: حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ کچھ لوگ اس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں، مگر حدیث کے سیاق اور الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو پھر متنِ حدیث میں کلمہ عدل یعنی انصاف کی بات کے بجائے کلمہ حق یعنی حق کی بات کا فقرہ ہوتا۔
نیز حدیث کا آخری فقرہ "سلطان جائر" یعنی ظالم بادشاہ بھی آیا ہے، جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہاں کلمہ عدل سے مراد دعوت الی اللہ نہیں ہے، بلکہ ایک ظالم حکمران کو ظلم سے روکنا مراد ہے، اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے، تاکہ وہ بھی اپنی رعایا سے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔ اس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علمِ بغاوت اٹھانا، اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا، کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا عین شریعتِ اسلامی کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمران کو تقویت دینے کے لیے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے، تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا۔
أن أوسبنا شرحبيل سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من مشى مع ظالم وهو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام". شعب الایمان، حدیث نمبر 7676۔ یعنی: حضرت اوسب نے شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے، اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے، تو وہ شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آپ کی کتاب "فکر اسلامی" کے حوالے سے اوپر دیے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، ان کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی؟
غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر۔ جواب: اگر کوئی حکمران آپ کو ظالم نظر آئے تو شرعی اعتبار سے اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں: خروج اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پرامن خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔
ظالم حکمران کے خلاف مسلح خروج اس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق درست ہو سکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طور پر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: راقم الحروف کی کتاب "ہند پاک ڈائری"، اس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائی ہیں، ان سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ ان حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خود ہمیشہ قائل رہا ہوں۔
قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دیے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ نمبر 1: ابن حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکمران مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ انہیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طور پر ایک پرامن اظہارِ خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اس قسم کے پرامن اور خیر خواہانہ اظہارِ خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔
ظلم پر اعانت کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہلِ ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلہ کار نہ بنیں، بلکہ وہ اس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔ نمبر 2: سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میں واضح طور پر قول کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قول، کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پرامن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے۔ یہ عین وہی بات ہے جس کو میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔
نمبر 3: تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف کلمہ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہلِ ایمان کو بلاشبہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیر خواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرے۔ اس حدیث میں بھی واضح طور پر کلمے کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔ نمبر 4: چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طور پر مشیع کے بارے میں ہے، نہ کہ جنگ کے بارے میں۔
یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طور پر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہلِ ایمان کے لیے جائز نہیں۔ ایسے مواقع پر اہلِ ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کرے اور اس کو خیر خواہانہ انداز میں نصیحت کرے۔ وہ مکمل طور پر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ آپ نے لکھا ہے کہ اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ حدیث کے مطابق وہ استطاعت کا معاملہ ہے۔ یعنی اس طرح کے معاملے میں داخل... یعنی اس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ نتیجہ یعنی رزلٹ کو سامنے رکھا جائے۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتا ہو تو صرف دعا کی جائے گی، دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیں کیا جائے گا۔
اس معاملے کو آپ مشہور حدیث "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه" وذلک اضعف الإيمان صحیح مسلم، حدیث نمبر 49 کے مطالعے سے بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے۔ اور یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 299۔