Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 3 min

سوال: بمبئی کے ایک روزنامے میں آپ کے خلاف ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: "مولانا وحید الدین صاحب، صلح حدیبیہ سے پہلے بیعتِ رضوان بھی ہے"۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مولانا وحید الدین صاحب مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کی نصیحت کرتے ہی وہ بھول جاتے ہیں کہ صلح حدیبیہ سے پہلے بیعتِ رضوان ہوئی تھی، جس میں صحابہ نے جہاد پر بیعت کی تھی۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

یہ سوال یہاں کئی لوگوں کے ذہن میں آ رہا ہے۔ فاروق فیصل، بمبئی۔ جواب: بیعتِ رضوان اگر بالفرض بیعتِ جہاد ہو، تب بھی میری بات ثابت شدہ ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعتِ جہاد کے باوجود صلح حدیبیہ کو قبول فرمایا، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سے پہلے کی بیعت، اگر بالفرض وہ جہاد کی بیعت ہو، تب بھی وہ سنتِ رسول کے مطابق منسوخ قرار پائے گی۔

کیونکہ اس موقع پر آپ کا جو آخری عمل تھا، وہ جہاد کا نہ تھا بلکہ صلح کا تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ بیعتِ رضوان کے نام پر حدیبیہ کے مقام پر جو بیعت ہوئی، وہ جہاد یا قتال کی بیعت نہ تھی، بلکہ وہ صرف عدمِ فرار کی بیعت تھی۔ چنانچہ بیعت میں شامل ہونے والے صحابی کہتے ہیں کہ "لم نبا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم على الموت إنما باعناه على أن لا نفر" صحیح مسلم، حدیث نمبر 1856۔ یعنی: ہم نے رسول اللہ سے موت کی بیعت نہیں کی تھی، ہم نے آپ سے صرف اس پر بیعت کی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔

دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر فریقِ ثانی کی طرف سے عملی جارحیت کی صورت پیش آ جائے تو ہم مقابلے کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ کہ فرار کا طریقہ۔ اس معاملے میں اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو اس کے سوا کوئی اور مطلب اس کا نہیں نکلتا۔ یعنی اگر فرار اور عدمِ فرار کے درمیان انتخاب، یعنی آپشن کا معاملہ ہو، تو فرار کو چھوڑ کر عدمِ فرار کے طریقے کو اختیار کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب ہو، تو صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے گا، نہ کہ جنگ کا طریقہ۔

تعمیرِ شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 298۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.