Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 5 min

سوال: قرآن کریم کو آپ نے "کتاب الصبر" فرمایا ہے؟ یہ قول اُن کے مقابلے میں نہایت وزنی ہے، جو اس کو "کتاب الجہاد" سمجھتے ہیں اور اسی انداز میں اس کو متعارف کراتے ہیں۔ جہاں تک حقیقتِ واقعے کا تعلق ہے، تو میرے نزدیک "کتاب الجہاد" کہنا اگر افراط ہے تو "کتاب الصبر" قرار دینا تفریط ہے۔ قرآن کے لیے اگر ہمیں اس طرح کی کسی وضاحت کی واقعی ضرورت ہے، تو میں سمجھتا ہوں کہ اسے "کتاب الاعتدال" کہنا چاہیے، اور اس کے نتیجے میں جو مذہب وجود میں آتا ہے، اسے مذہبِ اعتدال سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

محمد عمران مظاہری، مدرسہ حسینیہ، ایغوان پور، میرٹھ۔ جواب: آپ نے صبر کو بہت محدود معنی میں لیا ہے، اس لیے آپ نے ایسا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد خود صبر ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اہلِ ایمان کو 100 میں 99 بار صبر کرنا پڑتا ہے، اس کے بعد جہاد کا موقع آتا ہے۔

موجودہ امتحان کی دنیا میں ایمان کے تقاضوں پر زندگی گزارنے کے لیے صبر لازمی شرط ہے۔ مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے بھی صبر درکار ہے، کیونکہ اگر آپ کھوئے ہوئے پر صبر نہ کریں تو ملے ہوئے پر حقیقی جذبۂ شکر کا اظہار آپ کی زبان سے نہیں ہو سکتا۔ دعوت کے لیے صبر لازمی شرط ہے، کیونکہ مدعو کی زیادتیوں پر ایک طرفہ صبر کیے بغیر آپ سچے داعی نہیں بن سکتے۔ نماز میں آپ خشوع کے ساتھ صرف اس وقت پڑھ سکتے ہیں جبکہ آپ دینی دنیاوی تقاضوں پر صبر کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ہوں۔

انفاق بھی آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جبکہ آپ مال کی محبت کے جذبات پر صبر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اسی طرح حجِ مبرور بھی اسی وقت کیا جا سکتا ہے جبکہ سفرِ حج کے دوران پیش آنے والے مکارہ پر صبر کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی اخلاق کے اصولوں پر عمل اسی وقت ممکن ہے جبکہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر صبر کیا جائے۔ یہی معاملہ خود جہاد کا ہے۔

جہاد کا آغاز دوسروں کے خلاف قتال سے نہیں ہوتا، بلکہ خود اپنے نفس پر کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کی قابلِ شکایت باتوں پر صبر کرتے ہوئے اس کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرتا ہے۔ مومن دوسروں کی زیادتیوں پر صبر کرتے ہوئے اس کو دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔ مومن دوسروں کے جارحانہ عزائم کو ایک طرفہ اعراض کے ذریعے بے اثر بناتا رہتا ہے، اور اگر بالفرض جنگ کی نوبت آ جائے تب بھی مومن یہ کرتا ہے کہ وہ صرف حملہ آور پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔

بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو پھر بھی مومن اپنی زد سے محفوظ رکھتا ہے۔ مومن اپنے منفی جذبات کو ایک طرفہ طور پر دبا کر غیر حملہ آوروں کو نقصان پہنچانے سے بچتا ہے۔ صبر کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود جو جہاد کیا جائے، وہی دراصل اسلامی جہاد ہے۔ جہاد خود ایک صابرانہ عمل ہے، نہ کہ غیر صابرانہ عمل۔

جہاد بمعنی قتال ایک استثنائی حکم ہے، اور صبر ایک عمومی حکم۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا عنوان بحیثیتِ عموم کے اعتبار سے متعین کیا جائے گا، نہ کہ استثنا کے اعتبار سے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 296۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.