Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 4 min

سوال: الرسالہ میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ظلم و زیادتی کے خلاف مسلمانوں کو صبر کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ظلم و زیادتی پر صبر کرنا تو ظلم و زیادتی کو بڑھاوا دینا ہے۔ اس شعبے کا کیا جواب ہے؟ ندیم احمد ثناء بلی، دہلی۔

جواب: اس سلسلے میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ "وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آَيْتُمُونَ" سورہ نمبر 14، آیت 12۔ یعنی: تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم و زیادتی پر صبر کرنا اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق انہیں دی گئی۔ اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی کارروائی کو تدبیر سمجھتے ہیں، مگر یہ صرف ایک جذباتی ردعمل ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔

ایسے مواقع پر جوابی کارروائی صرف مسئلہ مسئلے کو بڑھاتی ہے، وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑکا کر مسئلے کو شدید تر بنا دیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلے کا حل نہیں۔ صبر کا مطلب عدم عمل نہیں، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلے کو جذباتی تدبیر کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

اس کے مقابلے میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعے مسئلے کو مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے، اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب۔ اس معاملے کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گنپتی کا جلوس نکلتا ہے۔ ابتدا میں مسلمان یہ کرتے تھے کہ گنپتی کا جلوس جب ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے، وہ جلوس کی وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔

اس کے نتیجے میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آ جاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالے کی تعمیری مہم کے نتیجے میں اس معاملے میں مسلمان صبر و اعراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گنپتی کا جلوس نکلتا ہے۔ جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔

مگر اب کئی سالوں سے گنپتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گنپتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولا اختیار کرتے ہیں، جبکہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیت کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 295۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.