سوال: قرآن میں آیا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح اول العزم انبیاء نے صبر کیا، اور ان کے معاملے میں جلدی نہ کرو۔ سورہ نمبر 46 آیت 35۔ اس کا مطلب کیا ہے، اس کی تفصیل فرمائیں۔ اسجد نواز صابری، ململ، بہار۔
جواب: عزم کا مطلب پختہ ارادہ، یعنی determination ہے، یعنی اپنے مقصد پر پوری طرح جمے رہنا۔ کسی بھی چیز کا اثر لے کر اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونا۔ اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ داعی سے جو کردار مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے، خواہ کتنا ہی زیادہ منفی ردعمل کا اظہار ہو، مگر داعی اپنے مثبت رویّے پر قائم رہے۔
مدعو اگر اشتعال دلائے تب بھی داعی مشتعل نہ ہو۔ مدعو اگر قابلِ نفرت سلوک کرے تب بھی داعی اس کا خیرخواہ بنا رہے۔ مدعو اگر نزاع چھیڑے تب بھی داعی اس سے اعراض کرتے ہوئے لڑائی کی نوبت نہ آنے دے۔ یہی عظیمت ہے، اور دعوت کا کام اس عظیمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 294۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.