سوال: حال ہی میں ہوئے بہار شریف میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات کی خاص وجہ یہ تھی کہ ہندو "درگا" کی مورتی لے کر مسلم محلے میں آ گئے، اور اشتعال انگیز نعرہ لگانے لگے کہ مسلمان ہندوستان کے غدار ہیں، مسلمان پاکستانی ایجنٹ ہیں، ان کو ہندوستان سے مار بھگاؤ۔ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟ ایسے موقع پر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ شاہ فیصل ویو نالندہ۔
جواب: اس سوال کا جواب پیشگی طور پر خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے دے دیا ہے۔ وہ انہی کے الفاظ میں یہ ہے: "أميت الباطل بالصمت عنه" دیکھیے، حلیۃ الاولیاء جلد 1 صفحہ 55۔ یعنی: باطل کو ہلاک کرو، اس سے چپ رہ کر۔ مذکورہ قسم کے مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کے بارے میں خاموشی اور اعراض کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
اعراض سے یہ مسئلہ صرف 2 منٹ کے نعرے پر ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب مسلمان اس طرح کے مواقع پر خاموشی کے بجائے جوابی اقدام کا طریقہ اختیار کریں، تو غیر ضروری طور پر وہ برا انجام سامنے آ جاتا ہے جو بہار شریف اور بھاگل پور جیسے مقامات پر پیش آیا۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 293۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.