Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-o-jawab

Urdu · 4 min

سوال: آپ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہم کو امتحان کے لیے رکھا ہے، تاکہ وہ دیکھے کہ کون صبر و استقامت کے اس امتحان میں کامیاب ہوتا ہے۔ آخرت کی جنت اسی کامیاب ہونے والے انسان کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے آخرت کی کامیابی کے لیے امتحان کا یہ طریقہ کیوں رکھا، اس کی وضاحت فرمائیں۔ مکرم حسین، نئی دہلی۔

جواب: یہ بات درست ہے کہ موجودہ دنیا میں ہمارے لیے ایک ہی آپشن ہے، اور وہ ہے صبر و استقامت اور ایک طرفہ ایڈجسٹمنٹ کا آپشن۔ یہی آپشن اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ہے، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کے لیے اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ دوسرا طریقہ خودکشی کا طریقہ ہے، نہ کہ کامیابی کا طریقہ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارے خالق نے ہمارے لیے یہ طریقہ کیوں مقرر کیا؟

اس کا سبب یہ ہے کہ اسی طریقے کے ذریعے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔ خالق نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا، مگر یہ صلاحیتیں بالقوہ یعنی پوٹینشل کے روپ میں ہیں، یعنی امکان کے روپ میں، نہ کہ واقعے کے روپ میں۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی شخصیت کے اندر چھپی ہوئی فطری صلاحیتوں کو واقعہ بنانے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے چیلنج۔ چیلنج آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔

چیلنج آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچ سکے۔ چیلنج اس بات کا ذریعہ ہے کہ آدمی منفی تجربات میں مثبت آئٹم کو دریافت کرے۔ آدمی ابتدائی طور پر ایک ناپختہ، یعنی ام میچور مخلوق ہے۔ یہ صرف چیلنج ہے جو آدمی کو پختہ، یعنی میچور بناتا ہے۔

چیلنج آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی شخصیت کو انفولڈ کرے۔ عام طور پر عورتوں اور مردوں کا حال یہ ہے کہ چیلنج پیش آنے کی صورت میں وہ منفی ردعمل، یعنی نیگیٹو ری ایکشن کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس طرح کے مواقع پر منفی ردعمل، یعنی ڈی ریلمنٹ، کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کسی عورت یا مرد کی زندگی غلط رخ پر چل پڑتی ہے۔

دھیرے دھیرے وہ اسی میں کنڈیشنڈ ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اسی منفی مزاج میں جیتے ہیں اور اسی منفی مزاج میں مر جاتے ہیں۔ یہ کسی عورت یا مرد کی بدترین ناکامی ہے۔ اس دنیا میں ہر شخص سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے اندر ایک مثبت شخصیت، یعنی پازیٹو پرسنیلٹی، کی تشکیل کرے۔

مگر انسان اللہ کے تخلیقی منصوبے کو نہ سمجھنے کی بنا پر یہ کرتا ہے کہ وہ چیلنج کو ایک برائی، یعنی ایول، سمجھ لیتا ہے۔ وہ دنیا سے اس چیز کو حاصل کیے بغیر چلا جاتا ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے خالق نے اس کو اس دنیا میں بھیجا تھا۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 292۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.