Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sawal-ojawab

Urdu · 4 min

سوال: ایک صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ مزاج "کاملیت پسند" یعنی پرفیکشنسٹ ہے، جو جذباتی نقصان ہو گیا۔ دل آج تک اسی میں پھنسا ہوا ہے۔ کچھ اسباب کی بنا پر معاشرے میں جو مل رہا ہے، وہ دل سے قبول تو نہیں۔ لیکن کیا صبر کر کے جو مل رہا ہے، اس پر گزارا کیا جائے؟

یہ سوچ کر کہ جو ملا ہے، وہ اسی دنیا تک ہے، اور من پسند چیز آخرت میں ملے گی۔ Query: Pakistan. جواب: آپ نے جس تجربے کا ذکر کیا ہے، اس کا تعلق آخرت سے یا جنت سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق صرف دنیا کے بارے میں قانون فطرت سے ہے۔

موجودہ دنیا کا معاملہ یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر حوصلہ مند، یعنی ambitionous، پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس عارضی دنیا میں محدودیت، یعنی limitations، کا قانون ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک شخص کو اس کے اپنے حوصلے کی نسبت سے کم ملتا ہے۔ تاریخ میں کوئی بھی شخص ایسا پایا نہیں جاتا جس نے اپنے حوصلے کے بقدر دنیا کو حاصل کیا ہو۔

اس حقیقت کی بنا پر اس دنیا میں انسان کے لیے دانشمندی یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند بنے، یعنی زیادہ چاہے مگر کم پر راضی ہو جائے۔ موجودہ دنیا کا یہ قانون قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقُصِّ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ سورہ نمبر 2، آیت 155۔ یعنی: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے، اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔

اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ یہ آیت موجودہ دنیا کے مادی قانون کو بتا رہی ہے۔ اس دنیا میں ایسا ہوگا کہ یہاں انسان کو مختلف پہلوؤں سے نقصان کا تجربہ ہوگا۔ کسی شخص کے لیے اس دنیا میں نقصان سے بچنا ممکن نہیں، نہ صالح لوگوں کے لیے اور نہ غیر صالح لوگوں کے لیے۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف ایک چوائس ہے، اور وہ صبر ہے۔ صبر کوئی بزدلی کی بات نہیں۔ صبر دانشمندی کی بات ہے۔ صبر کا مطلب ہے اپنی زندگی کی منصوبہ بندی ملے ہوئے پر کرنا، اور جو نہیں ملا اس کو خدا کی اسکیم آف تھنگز کے خانے میں ڈال دینا۔

یعنی جو ملا اس کو اپنا سمجھنا، اور جو نہیں ملا اس کے بارے میں اس اصول پر راضی ہونا کہ وہ خدا کا فیصلہ تھا، اور خدا کے فیصلے کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ تعمیر شخصیت: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 313۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.