← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr ki taaqat
Urdu · 10 min
صبر کی طاقت حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح کے درمیانی زمانے میں، بنی اسرائیل کے یہاں جنگ کا ایک واقعہ ہوا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے جوانوں کی تعداد کم تھی، اور دشمن کی فوج تعداد اور اسباب میں بہت زیادہ تھی۔ اس فرق کو دیکھ کر بنی اسرائیل کے لوگ ڈر گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو دشمن سے لڑنے کی طاقت نہیں۔
البقرہ، سورہ نمبر 2، آیت 249۔ بائبل کے بیان کے مطابق، اس وقت بنی اسرائیل کے سردار یون تن نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آ، ہم ادھر ان نامختونوں کی چوکی کو چلیں۔ ممکن ہے کہ خداوند ہمارا کام بنا دے، کیونکہ خداوند کے لیے بہتوں یا تھوڑوں کے ذریعے سے بچانے کی قید نہیں۔ نمبر 1 سموئیل، باب نمبر 6، وسط نمبر 14۔
یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: قَالَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُ اللَّهِ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ سورہ نمبر 2، آیت 249۔ یعنی جو لوگ یہ جانتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اس آیت میں قلیل اور کثیر کا لفظ صرف عددی معنوں میں اقلیت اور اکثریت کے لیے نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ وہ کمزور اور طاقتور کے معنی میں بھی ہے۔
عربی زبان میں قلیل اور کثیر کا لفظ اس توسیعی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جاہلی دور کے عرب شاعر کا یہ شعر اس کی ایک مثال ہے: فَإِنْ أَكُفِي شَرَارِكُمْ فَإِنْ أَكُفِي شِرَارِكُمْ قَلِيلُ فَإِنِّي فِي خِيَارِكُمْ كَثِيرُ قرآن کی اس آیت میں دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ کسی گروہ کا قلیل العدد یا کمزور ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کثیر العدد یا طاقتور فریق کے مقابلے میں ہمیشہ ناکام رہے۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کمزور بھی طاقتور پر غالب آ سکتا ہے۔ یہاں اقلیت بھی اکثریت کو مفتوح کر سکتی ہے۔
اس فتح و کامرانی کا راز آیت میں اس فتح و کامرانی کا راز آیت میں صبر بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی انفعالی کیفیت یا بزدلی کی چیز نہیں۔ صبر ایک فعال صفت ہے۔ وہ ایک بہادرانہ خصوصیت ہے۔
صبر اتنی عظیم چیز ہے کہ جو لوگ اس کا ثبوت دیں، وہ خدا کی خصوصی نصرت کے مستحق بن جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلتا ہے کہ ایک بظاہر کمزور گروہ ایک بظاہر طاقتور گروہ کے اوپر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان ہمیشہ مقابلہ جاری رہتا ہے۔
اس مقابلے میں کبھی ایک گروہ غالب آ جاتا ہے اور دوسرا گروہ اس کے مقابلے میں بظاہر مغلوب اور کمزور ہو کر رہ جاتا ہے۔ جب کوئی گروہ دوسرے کے مقابلے میں کمزور پڑ جائے اور اس کو نقصان اٹھانا پڑے، تو اس کے بعد کمزور گروہ کے ردعمل کی دو صورتیں ہوتی ہیں: ایک غیر صابرانہ ردعمل، دوسرا صابرانہ ردعمل۔ غیر صابرانہ ردعمل یہ ہے کہ آدمی مایوسی اور احساس شکست کا شکار ہو کر رہ جائے۔ وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے۔
وہ سمجھ لے کہ اب میرے لیے یہاں کچھ نہیں ہے۔ وہ دوسرے گروہ کو اپنی مصیبتوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خلاف فریاد اور احتجاج کرنے لگے۔ یہ تباہی کی صورت ہے۔ دوسروں نے اگر اس کو ابتدائی نقصان پہنچایا تھا، تو اس کے بعد وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا کر اپنی تباہی کی تکمیل کر لیتا ہے۔
دوسرا ردعمل صابرانہ ردعمل ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو چوٹ لگنے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالتا ہے۔ اس کا ذہن شکایت کرنے کے بجائے تدبیر کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ مایوسی میں پڑنے کے بجائے امید کے پہلوؤں پر غور کرتا ہے۔
وہ کھوئے ہوئے کا غم کرنے کے بجائے یہ چاہتا ہے کہ ملے ہوئے کو استعمال کرے۔ جو لوگ زک یعنی نقصان اٹھانے کے بعد اس طرح صبر کے طریقے کو اختیار کریں، وہ گویا اپنے آپ کو حالات سے اوپر اٹھاتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو اس حالت کی طرف لے جاتے ہیں جہاں ان کے اندر چھپے ہوئے امکانات جاگیں۔ ان کی شخصیت مزید طاقت کے ساتھ ابھر آئے۔
غیر صابر آدمی نقصان کو نقصان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ صابر آدمی نقصان کو اپنے لیے چیلنج سمجھتا ہے۔ وہ حالات کا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو آگے لے جانا چاہتا ہے۔ اور جو لوگ نقصان کا اس طرح استقبال کریں، وہ ہمیشہ آگے بڑھتے ہیں۔
وہ اپنی ناکامی کو دوبارہ عظیم تر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جب ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کے اوپر ظلم کرے، اور مظلوم گروہ کبھی اس کے جواب میں ظالمانہ کارروائی کرنے لگے، تو دونوں گروہ اخلاقی اعتبار سے برابر ہو گئے۔ ایسے دونوں گروہوں کو اللہ ان کی اپنی ذات کے حوالے کر دیتا ہے۔ ان میں سے کسی کو کبھی اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔
لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کو اپنے ظلم اور سرکشی کا نشانہ بنائے، مگر مظلوم گروہ جوابی کارروائی کرنے کے بجائے اس پر صبر کر لے، تو خدا صابر گروہ کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ وہ مظلوم گروہ کی مدد کر کے اس کو ظالم گروہ کے اوپر فاتح بنا دیتا ہے۔ مظلوم گروہ کو یہ فائدہ تمام تر صبر کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ صبر کوئی بے عملی کی حالت نہیں۔
صبر سب سے بڑا عمل ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے اندر اٹھتے ہوئے جذبات کو منفی رخ سے ہٹا کر مثبت رخ کی طرف پھیر دے۔ صبر کی صفت اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے۔ جو شخص صبر کرے، وہ بے پناہ شخصیت کا مالک بن جاتا ہے۔
تمام قوانین فطرت اس کے حق میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد کے تحت وہ ایک ناقابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ردعمل کی نفسیات سے اوپر اٹھائے۔ وہ ظالم کی بدخواہی کے جواب میں اس کے ساتھ خیر خواہی کرنا سکھاتا ہے۔
وہ برے عمل کا جواب بھلے عمل سے دینے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ صابر آدمی ظالم کے ظلم پر اس کے خلاف بد دعا نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ہدایت کی دعا مانگتا ہے۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے کہ وہ اشتعال انگیزی کے وقت مشتعل ہو جائے اور عاجلانہ کارروائی میں اپنی طاقت کو ضائع کرے۔ صبر آدمی کو بے پناہ حد تک طاقتور بنا دیتا ہے۔
وہ آدمی کی خفیہ صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ آدمی کے چھپے ہوئے امکانات کو بیدار کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر منصوبہ بند کام کرنے کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ صبر آدمی کو معمولی انسان کے درجے سے اٹھا کر غیر معمولی انسان کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔
تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 256۔