← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formulaTameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Sabr-Superior solution
Urdu · 4 min
صبر، سپیرئیر سولیوشن۔ قرآن کی تقریباً 103 آیتیں براہِ راست طور پر صبر سے متعلق ہیں، اور بقیہ آیتیں بالواسطہ طور پر صبر سے متعلق۔ گویا قرآن کی تمام تعلیمات صبر پر مبنی ہیں۔ یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ قرآن صبر کی کتاب ہے۔
صبر کی براہِ راست آیتوں کا معاملہ واضح ہے، مثلاً: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ سورہ نمبر 2 آیت 45۔ یعنی: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ سورہ نمبر 3 آیت 186۔
یعنی: اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ سورہ نمبر 31 آیت 17۔ یعنی: جو مصیبت تم کو پہنچے، اس پر صبر کرو۔ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ سورہ نمبر 90 آیت 17۔
یعنی: اور ایک دوسرے کو نصیحت کی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی، وغیرہ۔ یہ آیتیں وہ ہیں جن میں براہِ راست الفاظ میں صبر کا حکم دیا گیا ہے، مگر دوسری بیشتر آیتوں کا بھی صبر سے نہایت گہرا تعلق ہے۔ مثلاً قرآن کی پہلی آیت ہے: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورہ نمبر 2 آیت 2۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ اس کے بندے اس کا شکر اور تعریف کریں۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کوئی بھی آدمی ناخوشگوار تجربات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ قرآن کے مطابق انسان کو کَبَد یعنی مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ سورہ نمبر 90 آیت 4۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ یہاں خوشیوں اور مسرتوں کی زندگی بنا سکے۔
پھر حقیقی معنوں میں کوئی آدمی شکر کرنے والا کیسے بن سکتا ہے؟ اس کا واحد راز صبر ہے۔ یعنی آدمی جب دنیا میں پیش آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے گا، اس وقت اس کے لیے ممکن ہوگا کہ سچا کلمۂ شکر اس کی زبان پر جاری ہو سکے۔ اسی لیے قرآن میں شکر کے ساتھ صبر کو وابستہ کیا گیا ہے۔
سورہ نمبر 31 آیت 31۔ صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ مسائل کے مقابلے میں تسخیری انداز کا برتر حل دریافت کر سکے۔ آدمی جب فریقِ ثانی کے مقابلے میں بھڑک جائے تو وہ اس پوزیشن میں نہیں ہوتا کہ وہ سوچ کر کوئی گہرا جواب دے، یا کوئی دور رس منصوبہ بنا سکے۔ مگر جب وہ صبر و تحمل سے کام لیتا ہے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ فوری اقدام کے بجائے سوچا سمجھا ہوا اقدام کرے۔
اور یہ تاریخ کا تجربہ ہے کہ فوری اقدام کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے، اور سوچ سمجھ کر اقدام کرنے والا ہمیشہ کامیاب۔ صبر ہر قسم کے مسائل کا برتر حل، یعنی سپیرئیر سولیوشن ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 255۔