دعوت کا دور: محمد ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بیعتِ عقبہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ آپ کو صرف یہ حکم تھا کہ آپ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائیں، اور تکلیفوں پر صبر کریں، اور جاہلوں سے روگردانی کریں۔ قریش کا یہ حال تھا کہ آپ کی قوم میں سے جو لوگ آپ کی پیروی کرتے، وہ ان پر ظلم کرتے، ان کے دین کے بارے میں انہیں سخت آزمائش میں مبتلا کرتے۔ قریش نے ان کو ان کی بستیوں سے نکال دیا۔
چنانچہ آپ کے پیروؤں میں سے کچھ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہو گئے، اور کچھ لوگ قریش کے ہاتھ سے تکلیفوں کا شکار ہوئے، اور کچھ لوگ ان سے بچنے کے لیے دوسرے علاقوں میں چلے گئے۔ ایک جماعت حبش چلی گئی، کچھ لوگوں نے مدینے کی طرف ہجرت کی، یا اور کسی طرف چلے گئے۔ جب قریش نے اس طرح اللہ کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی، اور اللہ نے ان کے لیے جس عزت کا ارادہ کیا تھا، اس کو رد کر دیا، اور اپنے نبی کو جھٹلایا، اور ان لوگوں کو تکلیف دی اور جلاوطن کیا جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور اس کو ایک مانا، اور اس کے دین کو مضبوطی سے پکڑ لیا، اس وقت اللہ نے اپنے رسول کو جنگ کی اجازت دی، اور ان لوگوں کے لیے حفاظت اور مدد کا وعدہ کیا جن پر ظلم اور زیادتی ہو رہی تھی۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ اس اجازت کے بارے میں سب سے پہلے سورۃ الحج آیت 39 تا 41 اتاری گئی۔
سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 75۔ مکے کا دور دعوت کا دور تھا۔ اس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو حکم تھا کہ اپنی ساری توجہ صرف دعوت پر مرتکز رکھیں۔ غیر مسلموں کی طرف سے خواہ کتنی ہی دل آزاریاں کی جائیں، اور کتنی ہی تکلیفیں پہنچائی جائیں، ان پر کوئی ردعمل ظاہر نہ کریں۔
اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ ایک طرفہ طور پر صبر و برداشت پر قائم رہتے ہوئے دعوت کا مثبت کام جاری رکھیں۔ دعوت کا کام اس وقت تک انجام نہیں پا سکتا جب تک داعی کے دل میں مدعو کی خیرخواہی نہ ہو۔ یہ خیرخواہی اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ مدعو کی زیادتیوں کے باوجود اس کے حق میں داعی کے دل سے ہدایت کی دعائیں نکلتی رہیں۔
چنانچہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑایا اور آپ پر پتھر مارے، ان کے بارے میں آپ نے یہ دعا فرمائی کہ خدایا میری قوم کو ہدایت دے، وہ نہیں جانتے۔ رَبِّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ فتح الباری جلد 12 صفحہ 282۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 260۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.