Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr aur dawat

Urdu · 3 min

صبر اور دعوت: صبر داعی کا اخلاق ہے، صبر ہی کے ذریعے وہ حالات پیدا ہوتے ہیں جبکہ کوئی شخص دعوتی مواقع کو استعمال کر سکے۔ جو آدمی ناخوشگوار باتوں پر صبر کرنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ اس دنیا میں کبھی داعی کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ سر جیمز جینز، 1877 تا 1946، مشہور انگریز سائنسدان ہیں؛ اس نے طبعیات اور فلسفہ، یعنی Physics and Philosophy کے نام سے، 1941 میں ایک کتاب لکھی۔ اس کتاب کے دیباچے میں اس نے اعتراف کیا کہ کائنات کے سائنسی مطالعے نے ہم کو جہاں پہنچایا ہے، اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت کا دروازہ کھولنا ممکن ہے، بشرطیکہ ہم اس کا ہینڈل حاصل کر سکیں۔

It almost seems to suggest that the door may be unlocked if only we could find the handle. پیج 216: انگریز سائنسدان نے جس وقت یہ سطریں لکھی ہیں، عین اس وقت ساری دنیا کے مسلمان انگریزوں کی سیاسی بالادستی پر بھڑک کر ان کے خلاف خون آشام لڑائی میں مصروف تھے۔ وہ انگریز کو صرف ایک قابلِ نفرت دشمن کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔ اگر وہ انگریز کی سیاسی بالادستی پر وقتی طور پر صبر کر لیتے، تو اچانک انہیں دکھائی دیتا کہ انگریز قوم حقیقت کے دروازے کھولنے کے لیے جس ہینڈل کی تلاش کر رہی ہے، وہ ہینڈل ان کے پاس قرآن کی صورت میں موجود ہے۔

اس واقفیت کی صورت میں انگریز کے بارے میں ان کی پوری نفسیات بدل جاتی۔ اب وہ انگریز کو اپنا مدعو سمجھتے، نہ کہ اپنا حریف۔ اس کے بعد وہ انگریز کی ہلاکت چاہنے کے بجائے اس کی ہدایت چاہنے لگتے۔ وہ انگریز کی اصلاح کے لیے دعا کرتے، اور اس کے خیرخواہ بن کر اس سے یہ کہتے کہ حقیقت کی منزل تک پہنچنے کے لیے تم کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ تمہارے خدا نے پیشگی طور پر قرآن کی صورت میں تمہارے لیے بھیج دیا ہے۔

صبر دعوت کی لازمی شرط ہے۔ جہاں صبر نہ ہو، وہاں دعوت بھی یقینی طور پر نہیں ہوگی۔ تعمیر شخصیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 230۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.