Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr ek musbat amal

Urdu · 4 min

صبر ایک مثبت عمل ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صبر ایک منفی عمل ہے، مگر یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک مثبت عمل ہے، بلکہ وہ مثبت عمل کی بنیاد ہے، کیونکہ صبر کے بغیر اس دنیا میں کوئی مثبت عمل نہیں کیا جا سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی کے آخری دور میں اطراف عرب کے رئیسوں اور بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط روانہ کیے۔

آپ کا یہ عمل واضح طور پر ایک مثبت عمل تھا، مگر اس مثبت عمل کی قیمت صبر تھی۔ اس سے پہلے آپ کو صبر کرنا پڑا، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ حالات پیدا ہوں جن میں مذکورہ قسم کا مثبت عمل انجام دیا جا سکے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ رئیسوں اور بادشاہوں کے نام یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کیے گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام صلح حدیبیہ سے پہلے بھی ہو سکتا تھا، پھر آپ نے اس کو صلح حدیبیہ کے بعد کیوں انجام دیا؟

اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے آپ جنگ و قتال کے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ صبح و شام دشمنوں کے حملے کا خطرہ لگا رہتا تھا، اور آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی ساری توجہ دفاعی کاموں میں خرچ ہو رہی تھی۔ ایسے غیر معتدل حالات میں حکمرانوں کے نام دعوتی مہم کا منصوبہ بنانا اور اس کی تعمیل کرنا عملاً سخت دشوار تھا۔ صلح حدیبیہ حقیقتاً مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان 10 سال کا ناجنگ معاہدہ، یعنی نو وار پیکٹ تھا۔

چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد حالات بالکل معتدل ہو گئے۔ اس کے بعد فوراً آپ نے حکمرانوں کے نام دعوت نامے بھیجنے کا منصوبہ بنایا اور اس کی تعمیل فرمائی، جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر کے بغیر کوئی مثبت عمل ممکن نہیں۔ اگر آپ کو داعی بننا ہے تو مدعو کے ساتھ تمام جھگڑوں کو ایک طرفہ طور پر ختم کرنا ہوگا۔

اگر آپ کو متوازن اخلاق اختیار کرنا ہے تو اپنے سینے کو تکبر کا قبرستان بنانا ہوگا۔ اگر آپ کو لوگوں کا خیر خواہ بننا ہے تو اپنے اندر اٹھنے والے حسد کے جذبات کو دبانا ہوگا۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر پیدا ہونے والے انتقامی جذبات کو ذبح کرنا ہوگا۔ اور یہ سب وہ چیزیں ہیں جو صبر سے تعلق رکھتی ہیں، صبر کے بغیر ان کا حصول ممکن نہیں۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 231۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.