صبر، بے صبری—کسی آدمی کے ساتھ آپ کا مسئلہ پیدا ہو تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ خود اس کے حل کی ذمہ داری قبول کریں، دوسری صورت یہ ہے کہ آپ مسئلے کے حل کی ذمہ داری دوسرے آدمی کے اوپر ڈالیں۔ پہلا طریقہ صبر کا طریقہ ہے، اور دوسرا طریقہ بے صبری کا طریقہ۔ صبر کا مطلب خود ذمہ داری قبول کرنا ہے، اور بے صبری کا مطلب دوسرے کے اوپر ذمہ داری ڈالنا۔ یہی مختصر الفاظ میں صبر اور بے صبری کا خلاصہ ہے۔
صبر آدمی کے اندر مثبت نفسیات پیدا کرتی ہے۔ صبر والا آدمی پیش آمدہ صورتحال کو چیلنج سمجھتا ہے، اور اس سے مقابلہ کر کے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی ساری طاقت کو محنت اور عمل کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے وقت کا ہر لمحہ، اور اپنے اثاثے کا ہر ذرہ، تعمیر کے راستوں میں لگاتا ہے۔
نئے حالات کا جھٹکا اس کو اثرِ نو بیدار کر دیتا ہے۔ بھرپور جدوجہد کے ذریعے وہ مزید اضافے کے ساتھ اپنی غلطیوں کی تلافی کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس، بے صبر آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کی پوری سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ اس کا ذہن احتجاج اور شکایت کے رخ پر چل پڑتا ہے۔
وہ اپنے اثاثے کو تعمیرِ خویش کے بجائے تخریبِ غیر کے محاذ پر لگا دیتا ہے۔ وہ اپنی کمی کو دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ دوسرے کو غلط ثابت کرنے کو کام سمجھ کر اس میں مصروف ہو جاتا ہے۔ پہلے اگر وہ اپنی بے عملی سے محروم ہوا تھا، تو اب وہ غلط عمل کی بنا پر اپنے کو مزید محروم کر لیتا ہے۔ صبر کا مطلب سوچ کر اقدام کرنا ہے، اور بے صبری کا مطلب بے سوچے سمجھے اقدام کرنا۔
صبر منصوبہ بند عمل ہے، اور بے صبری عجلت کی کارروائی۔ صبر حالات کا اندازہ کر کے حالات سے نپٹنا ہے، اور بے صبری حالات کا اندازہ کیے بغیر حالات میں کود پڑنا۔ صبر دانشمندانہ تدبیر ہے، اور بے صبری جذباتی ہنگامہ آرائی۔ صبر انجامِ کار کو ملحوظ رکھتے ہوئے متحرک ہونا ہے، اور بے صبری انجامِ کار سے بے پرواہ ہو کر حرکت میں آ جانا۔
صبر گویا اپنے ساتھ دوسروں کو بھی جاننا ہے، اور بے صبری گویا صرف اپنے آپ کو جاننا۔ پہلا آدمی ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، اور دوسرا آدمی ہمیشہ ناکام۔ تعمیرِ شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 229۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.