Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Aakhirat ka raasta sabr ka raasta hai

Urdu · 11 min

آخرت کا راستہ صبر کا راستہ ہے۔ وہ لوگ اپنے واجبات کو پورا کرتے ہیں، اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ وہ اللہ کی محبت میں غریب اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم تم کو صرف اللہ کی رضامندی کے لیے کھلا رہے ہیں۔

ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے، اور نہ شکر گزاری چاہتے۔ ہم کو تو اپنے رب کی طرف سے ایک سخت اور تلخ دن کا اندیشہ ہے۔ پس اللہ ان کو اس دن کی سختی سے بچا لے گا، اور ان کو تازگی اور خوشی عطا کرے گا، اور ان کے صبر کے بدلے ان کو جنت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔ وہ وہاں تختوں پر مسندیں لگائے ہوئے ہوں گے۔

وہاں نہ گرمی کی تکلیف ہوگی اور نہ سردی کی۔ جنت کے درخت ان پر جھکے ہوئے سایہ کر رہے ہوں گے۔ اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے۔ لوگ ان کے پاس چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے لیے پھر رہے ہوں گے۔

وہ شیشے بھی چاندی کے ہوں گے جن کو بھرنے والوں نے ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ ان کو وہاں ایسے پیالے پلائے جائیں گے جن میں سونٹ کی آمیزش ہوگی۔ یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جس کو سلسبیل کہا جاتا ہے۔ ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے رہیں گے۔

تم ان کو دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ وہاں تم جدھر بھی نگاہ ڈالو گے، ہر طرف نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے۔ ان کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے۔ ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، اور ان کا رب ان کو پاکیزہ شراب پلائے گا۔

یہ ہے تمہارا بدلہ، اور تمہاری کوشش اللہ کے یہاں مقبول ہوئی۔ سورہ نمبر 76 آیت 7 تا 22 قرآن کا یہ ارشاد بتا رہا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کی کوششیں آخرت میں صحیح مشکور سورہ نمبر 76 آیت 26 کا درجہ حاصل کریں گی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ہولناکیوں کا اتنا شدید احساس رکھتے ہوں کہ وہ ان کے اوپر ایک قسم کا آسمانی محاسب بن کر چھا جائے۔ ان کا حال یہ ہو جائے جیسے کہ وہ موت کی دوسری طرف جہنم کو بھڑکتا ہوا دیکھ رہے ہوں، اور اسی کے زیر اثر سارا کام کر رہے ہوں۔

وہ جب کوئی عہد کریں، خواہ منت کا عہد ہو یا ایمان کا عہد یا قول و قرار کا عہد، تو وہ اس کو اس طرح پورا کریں جیسے وہ بے پناہ یقین کے ساتھ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر انہوں نے اس کو پورا نہ کیا تو جہنم کی آگ انہیں پکڑ لے گی۔ ان کا ایمان باللہ ان پر جن باتوں کو لازم کر رہا ہے، اور ان کا عہد ان کو جن چیزوں کا پابند بنا رہا ہے، ان کو وہ اس طرح پورا کریں جیسے وہ ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوئے ہیں جہاں ان کے لیے دو میں سے صرف ایک چیز کے انتخاب کا سوال ہے: یا قول و قرار کے تقاضوں کو پورا کرنا، یا جانتے بوجھتے اپنے آپ کو جہنم کے الاؤ میں گرا دینا۔ آخرت کے احساس ہی کے تحت ان کے اندر جو دوسری خصوصیت پیدا ہوتی ہے، وہ بندوں کے ساتھ مہربانی ہے۔ وہ اپنے لیے اپنے رب سے مہربانی چاہتے ہیں، اس لیے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ مہربانی کرتے ہیں۔

وہ اپنی کمائی میں محتاجوں کا حق سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کا سہارا بنتے ہیں جو حالات کے نتیجے میں بے بس ہو گئے تھے، یا بندشوں میں پھنسے ہوئے تھے۔ بندگان خدا کی خدمت کا یہ کام جو وہ کرتے ہیں، بدلہ اور شکرانہ وصول کرنے کے لیے نہیں کرتے۔ بدلہ اور شکرانہ وصول کرنے کے لیے نہیں کرتے۔

اس کا محرک تمام تر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کے دن جب وہ خدا کے سامنے تمام کمزوروں سے زیادہ کمزور حالت میں کھڑے ہوں، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے، بلکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لیے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے۔ وہ بھوکے کو کھلاتے ہیں تاکہ خدا ان کو کھلائے۔ وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں تاکہ خدا ان کو سہارا دے۔

وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے۔ ان لوگوں کو یہ نعمتیں اس لیے ملیں گی کہ انہوں نے صبر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لیے جینا، دکھائی دینے والے جنت اور جہنم کو نظر انداز کر کے، نہ دکھائی دینے والے جنت و جہنم کے لیے سرگرم ہونا، ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے۔

اس راہ میں کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر خانے ہونا پڑتا ہے۔

کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گمنامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کر لینا پڑتا ہے۔

کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبر و برداشت کا معاملہ ہے۔ جو اپنے آپ کو دبانے اور کچلنے کے لیے تیار نہ ہو، وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا۔

وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّى إِلَّا الصَّابِرُونَ سورہ نمبر 28 آیت 80 یعنی اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا تھا: خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا۔ اور یہ بات انہی کے دل میں پڑتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ دنیا کی زندگی دراصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔

آدمی ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے۔ مگر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ ایسے موقع پر منفی جذبات کی پرورش سے اپنے کو روکنا پڑتا ہے۔

کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کو ٹٹولنا پڑتا ہے تاکہ حسد اور رقابت کے بیج کو نکال پھینکا جائے۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے، حالانکہ اس کی وجہ صرف اس کا نیازمندانہ انداز ہوتا ہے۔ اور کبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے، حالانکہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے۔

ایسے مواقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے جہاں وہ تعریف و تنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے۔ دوسروں کے ساتھ انصاف اور خیرخواہی کے بغیر کوئی شخص دیندار نہیں بنتا۔ اور انصاف اور خیرخواہی پر قائم ہونا صبر کے بغیر ممکن نہیں۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 225.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.