Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr ka inaam

Urdu · 3 min

صبر کا انعام قرآن میں بتایا گیا ہے کہ صبر کرنے والوں کو بے حساب انعام دیا جائے گا۔ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ سورہ نمبر 39 آیت 10۔ یعنی بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات بیان کی گئی ہے، وہ کوئی پراسرار بات نہیں ہے، وہ ایک معلوم حقیقت کا بیان ہے۔

وہ میدانِ جنگ میں صابرانہ لڑائی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ وہ ایمانی زندگی میں صابرانہ روش سے متعلق ہے۔ اس آیت میں ان انعام سے مراد مومن کے شخصی ارتقاء، یعنی پرسنالٹی ڈیولپمنٹ، میں اضافہ ہونا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: قدیم زمانے میں سیب سے رس، یعنی جوس، نکالنے کے لیے سادہ طریقہ استعمال ہوتا تھا، اس لیے رس کی مقدار کم ہوا کرتی تھی۔ موجودہ زمانے میں سیب سے رس نکالنے کے لیے مشینی دباؤ، یعنی مکانیکل پریشر، استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے موجودہ زمانے میں سیب کی اسی مقدار سے بہت زیادہ جوس نکالا جاتا ہے، جتنا کہ پہلے نکلتا تھا۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر پوٹینشل کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ کم پریشر میں وہ کم نکلتا ہے، لیکن جب پریشر بڑھ جائے تو اس کی مقدار بھی بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب مشکل حالات زیادہ ہوں، اس کے باوجود اہلِ ایمان سچائی کی روش پر صبر کر کے قائم رہیں، تو اس کشاکش کے دوران انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج کرتی ہے۔

ایسی حالت میں زیادہ مشکلات کے باوجود ایمان کی روش پر جمے رہنا بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر تخلیقی صلاحیت، یعنی کریئیٹیوٹی، میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے انسان کے اندر محبتِ الہی اور خوفِ خدا میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس سے متقیانہ سوچ بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، وغیرہ۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 215۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.