Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Nizaam-e-fitrat

Urdu · 3 min

نظامِ فطرت ایک شاعر کا قطع ہے؛ اپنے اُن دو شعروں میں اُس نے نہایت سادہ طور پر زندگی کی حقیقت بتا دی ہے۔ وہ قطع یہ ہے: "کہا، کیا اونٹ پر بیٹھوں؟ کہا، ہاں اونٹ پر بیٹھو۔ کہا، کوہان کا ڈر ہے؟

کہا، کوہان تو ہوگا۔ کہا، دریا میں کیا اتروں؟ کہا، دریا میں ہاں اترو۔ کہا، طوفان کا ڈر ہے؟

کہا، طوفان تو ہوگا۔ کہا، کیا پھول کو توڑوں؟ کہا، ہاں پھول کو توڑو۔ کہا، پر خار کا ڈر ہے؟

کہا، پر خار تو ہوگا۔ " یہی موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت ہے: یہاں اونٹ ہے تو کوہان بھی ہے، یہاں ہموار پیٹھ والا کوئی اونٹ موجود نہیں۔ یہاں دریا میں طوفان کا مسئلہ بھی ہے؛ یہاں کوئی ایسا دریا نہیں پایا جاتا جس میں سکون ہی سکون ہو۔ تموج یعنی waves نام کی کوئی چیز وہاں موجود نہ ہو۔

اسی طرح یہاں خدا کے اگائے ہوئے باغ میں اگر خوبصورت پھول ہیں، تو اسی کے ساتھ خار یعنی نوک دار کانٹے بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی کوئی چیز حاصل کرنے کا خواہش مند ہو، اُس کو پیشگی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ یہاں ترقی کا سفر کبھی ہموار راستوں سے طے نہیں ہوتا۔ یہاں مسائل پر قابو پانے کے بعد ہی کسی آدمی کے لیے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں۔ جو آدمی مسائل و مشکلات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، اُس کو خدا کی اس دنیا میں کسی قسم کی کامیابی کی امید بھی نہ رکھنا چاہیے۔

خدا کی دنیا ویسی ہی رہے گی جیسا کہ اُس کو بنایا گیا ہے؛ اُس کو بدلنا یقینی طور پر ہمارے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہاں زندگی اور کامیابی کی صرف ایک صورت ہے: دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت سے وہ اپنے آپ کو ہم آہنگ کر لے۔ اس کے سوا ہر دوسری صورت آدمی کی ناکامی میں اضافہ کرنے والی ہے، نہ کہ اُس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے والی۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 213۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.