Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Radd-e-amal nahi

Urdu · 4 min

ردِ عمل نہیں، صبر ابتدائی طور پر اس بات کا نام ہے کہ کوئی ناخوشگوار صورتحال پیش آئے تو آدمی برداشت کر لے۔ آہ واویلا کرنے کے بجائے وہ تحمل کا طریقہ اختیار کرے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ری ایکشن سے بچائے، اور ناخوشگوار صورتحال کو اندر ہی اندر سہ لے۔ صبر اپنے وسیع تر مفہوم کے اعتبار سے پیس فل پلاننگ کا نام ہے۔

بے صبری یہ ہے کہ آدمی ری ایکشن کا طریقہ اختیار کرے، اور صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو آخری حد تک ری ایکشن سے بچائے، بلکہ خاموش انداز سے پرامن تدبیر کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ صبر کا معاملہ اجتماعی زندگی میں جب بھی پیش آئے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ٹکراؤ کو اوائڈ کیا جائے، اور وقتی طور پر کوئی تکلیف پیش آئے تو برداشت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے آدمی اس معاملے پر غور و فکر کرے، پھر غیر جذباتی انداز میں خاموش پلاننگ کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس طریقہ کار کی عملی مثال ہے۔ آپ کا زمانہ قبائلی دور، یعنی ٹرائبل ایج تھا۔

اس زمانے میں لوگوں کو مسائل کا ایک ہی حل معلوم تھا، وہ تھا ٹکراؤ اور جنگ و جدال کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنا۔ پیغمبر اسلام نے ہمیشہ اختلافی معاملات میں تحمل کا طریقہ اختیار کیا، اور پیس فل پلاننگ یعنی خاموش منصوبہ بندی کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔ آپ کی پوری زندگی، خواہ مکی دور ہو یا مدنی دور، اسی دانشمندانہ طریقہ کار کی کامیاب مثال ہے۔ مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر اہلِ مکہ نے آپ کو پرووک کرنے کی کوشش کی، مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر اہلِ مکہ نے آپ کو پرووک کرنے کا ہر ممکن طریقہ اختیار کیا تھا، مگر رسول اللہ نے ہمیشہ اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔

اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: "إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا." سورہ نمبر 48 آیت 26۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا، اور وہ اس کے زیادہ حقدار اور اس کے اہل تھے۔ حدیبیہ کے موقع پر آپ نے مکمل طور پر ایک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کیا، چنانچہ اس کا نتیجہ فتح مبین کی شکل میں آیا۔ الفتح سورہ نمبر 48 آیت 1۔

تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 216۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.