Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Discipline ki ahmiyat

Urdu · 3 min

ڈسپلن کی اہمیت: ڈسپلن کا مطلب انضباط ہے۔ ڈسپلن کو ایک لفظ میں انضباطی کردار، یعنی کنٹرولڈ بیہیویئر، کہہ سکتے ہیں۔ اس کا تعلق دراصل اجتماعی زندگی سے ہے۔ سادہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ڈسپلن کا مطلب ہے عملی زندگی میں دوسروں کی رعایت کرنا۔

زندگی کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے، وہ اپنی خواہش کے مطابق زندگی گزارے۔ اس کے اندر دوسروں کی پرواہ کرنے کا مزاج نہ ہو۔ ایسی زندگی ڈسپلن کے خلاف زندگی ہے۔ اس کے برعکس، دوسرا انسان وہ ہے جو دوسروں کی رعایت کرنا جانتا ہو، جو اپنی گفتگو اور اپنے سلوک میں ہمیشہ یہ دھیان رکھے کہ دوسروں کے اوپر اس کا کیا اثر پڑے گا۔

اس کی کسی بات پر دوسرا شخص ناگواری کا اظہار کرے تو وہ فوراً اپنی غلطی کو مانتے ہوئے اپنی اصلاح کرے۔ یہ ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ ڈسپلن کوئی سادہ چیز نہیں۔ ڈسپلن دراصل کائناتی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔

وسیع خلا میں سیارے اور ستارے مسلسل طور پر حرکت کرتے ہیں، لیکن ان میں کبھی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ جنگل میں مختلف قسم کے جانور رہتے ہیں، لیکن ہر ایک اپنی جبلت، یعنی انسٹنکٹ، کی کامل طور پر پابندی کرتا ہے۔ یہی وہ پابند کردار ہے جس کو انسانی زندگی کے اعتبار سے ڈسپلن کہا جاتا ہے۔ یہ ڈسپلن بے حد ضروری ہے۔

یہ آدمی کی شرافت کی پہچان ہے۔ یہ کسی آدمی کی بلند اخلاقی کو بتانا ہے۔ ڈسپلن کے ساتھ جینے والا انسان ہی دراصل کامل معنوں میں انسان ہے۔ جو شخص ڈسپلن سے خالی ہو، وہ گویا کہ اعلیٰ انسانی اخلاق سے خالی ہے۔

یہ ڈسپلن کسی کے اندر خارجی ضوابط سے نہیں پیدا ہوتا، وہ آدمی کے داخلی احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈسپلن کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسروں کے لیے معاون بنے۔ اور ڈسپلن کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے لیے زحمت، یعنی نیوسنس، پیدا کرنے کا باعث نہ بنے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 187۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.