Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula
Tameer-e-shakhsiyat kamiyaab zindagi ka formula

Sabr-o-iaraaz ka usul

Urdu · 7 min

صبر و اعراس کا اصول: موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر شکایت کی نفسیات میں جی رہے ہیں۔ وہ دوسری قوموں کو غیر، بلکہ اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ان کے مقررین و محررین ہمیشہ دوسروں کے خلاف شکایت کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان سے کہا جائے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، تو ان کا جواب ہوگا: "Should you ignore Gujarat 2002, Assam, Muzaffarnagar, etc.

? " اور the umpteenth fake terror cases, encounters, or the daily conspiracies of the Sangh Parivar in so many ways that make life difficult for the Muslim community? مگر اس معاملے میں قرآن کا جواب مختلف ہوگا، اور وہ یہ کہ آپ کو اس قسم کے منفی واقعات کو نظرانداز ہی کرنا ہے۔ آپ کو اپنے مفروضہ دشمن کی نام نہاد سازشوں کو بھلا کر اپنی زندگی کو مثبت بنیاد پر تعمیر کرنا ہے۔

قرآن میں اس طریقے کو صبر و اعراس کہا گیا ہے، اور صبر و اعراس کے بغیر کوئی قوم اس دنیا میں ہرگز ترقی نہیں کر سکتی۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آَذَيْتُمُونَ سورہ نمبر 14 آیت 12۔ یعنی: "اور جو تکلیف تم ہمیں دو گے، ہم اس پر صبر ہی کریں گے۔ " اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو آزادی اور مقابلہ، یعنی competition کے اصول پر بنایا ہے۔

یہاں کوئی بھی نظام ہو، اور کسی کی بھی حکومت ہو، ہمیشہ ایک کو دوسرے سے کچھ نہ کچھ ایذا، یعنی ہام، کا تجربہ ہوگا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے واقعات کو شکایت کا موضوع نہ بنائے، بلکہ وہ اس کو manage کرنے کی تدبیر کرے۔ اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا سورہ نمبر 3 آیت 120۔ یعنی: "اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو، تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔

" اس کا مطلب ہے کہ فطرت کے نظام کے مطابق اس دنیا میں اصل مسئلہ سازش، یعنی conspiracy کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت نہ پائی جائے۔ اس لیے سازش کے خلاف شکایت کرنا مکمل طور پر ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت پیدا کی جائے، تاکہ سازش کرنے والوں کی سازش عملاً مؤثر نہ ہو سکے۔ قرآن کی تعلیمات کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو یہ بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں خالق کا تخلیقی منصوبہ، یعنی creation plan، کیا ہے۔

انسان کو چاہیے کہ وہ اس تخلیقی منصوبے کو جانے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس تخلیقی منصوبے کو جانے اور اس کے مطابق اپنی سرگرمیوں کا نقشہ بنائے۔ کوئی فرد یا کوئی قوم اگر اس تخلیقی منصوبے کو نظرانداز کرے اور خود اپنے ذہن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنائے، تو یقینی طور پر اس دنیا میں اس کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا۔ یہی حقیقت پسندی ہے، اور اس دنیا میں حقیقت پسندی ہی سب سے بڑا اصول ہے۔

قرآن میں انسان کی پیدائش کی حکمت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا سورہ نمبر 67 آیت 2۔ یعنی: "اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے۔ " اس حکمتِ ابتلا کی بنا پر ہر انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ جب انسان اپنی آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے، تو اس سے فطری طور پر دنیا میں چیلنج اور مسابقت، یعنی competition، کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

چیلنج اور مسابقت کا یہ ماحول لازماً دنیا میں رہے گا۔ اس بنا پر یہاں لازماً ایسا ہوگا کہ ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطلوب صورتحال، یعنی unwanted situation، کا سامنا پیش آئے گا۔ اس صورتحال کے خلاف شکایت کرنا بھی بے فائدہ ہے، اور اس سے لڑنا بھی بے فائدہ۔ کامیابی کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی حکیمانہ تدبیر کے ساتھ اس کا سامنا کرے۔

خالق کے قائم کردہ نظام کے مطابق اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد اصول ہے۔ اسی حکیمانہ روش کا نام صبر و اعراس ہے۔ صبر و اعراس، دانشمندانہ طریقِ زندگی کا دوسرا نام ہے۔ صبر و اعراس اپنی حقیقت کے اعتبار سے اقدام ہے۔

اگرچہ نادان لوگ اس کو پسپائی سمجھ لیتے ہیں، صبر و اعراس اعلیٰ انسانی اخلاق کا دوسرا نام ہے۔ تعمیر شخصیت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 188۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.